لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر انہیں ذرا برابر بھی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ کشمیری عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ترقی کس کا نام ہے اور وہ پنجاب جیسی شاندار ترقی کے خواہاں ہیں۔ خواتین سمیت تمام ووٹرز نے جوش و جذبے سے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کی گڈ گورننس اور کارکردگی پر مہر ثبت کی۔
عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو جماعت اٹھارہ سال تک اقتدار میں رہی ہو، اسے آج لوگوں کو اشتہارات کے ذریعے بتانا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے کیا کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا رونا دھونا پولنگ کے اگلے روز ہی صبح دس بج کر اٹھارہ منٹ پر شروع ہو گیا تھا، جبکہ الیکشن کمیشن میں کوئی باضابطہ درخواست دینے کے بجائے وہ صرف میڈیا میڈیا کھیل رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کا دوسرا روپ: ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اب بالکل تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ ملک میں ہمیشہ فساد جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ایم این سیز نے خود پولنگ اسٹیشنز میں گھس کر غنڈہ گردی کی اور جب میڈیا نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی طرف سے منع کیے جانے کا عذر پیش کیا۔
عظمیٰ بخاری نے مشورہ دیا کہ وہ بلاول بھٹو زدار کو ایک ‘سیف ایگزٹ’ دینا چاہتی ہیں کیونکہ ان کے اردگرد موجود لوگ انہیں غلط معلومات دے کر جذباتی کرتے ہیں اور وہ غصے میں آ کر بیانات دے کر شام کو وضاحتیں دیتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے طنز کیا کہ پیپلز پارٹی دنیا کی وہ پہلی سیاسی جماعت ہے جو اس بات پر خفا ہے کہ الیکشن میں ٹرن آؤٹ (ٹرن آؤٹ) زیادہ کیوں رہا!
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ایک لاکھ سات ہزار سے زائد ووٹ لیے جبکہ پیپلز پارٹی بمشکل بیس ہزار ووٹ ہی سمیٹ سکی، لہذا دونوں کا کوئی آپس میں مقابلہ ہی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ اور بلوچستان میں کون سی حکومتیں کس فارم کے تحت بنی ہیں سب جانتے ہیں، اور کشمیری عوام نے نواز شریف کے ترقیاتی بیانیے کو ووٹ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتشار کی بجائے تعمیر و ترقی کے ساتھ ہیں۔
انتخابی شکست کے بعد رونا دھونا بے سود”پیپلز پارٹی پی ٹی آئی پارٹ ٹو بن چکی ہے”: عظمیٰ بخاری

