کیپ کارنیوال فلوریڈا :ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ایک بے قابو اور آوارہ راکٹ بوسٹر تیزی سے چاند کی طرف بڑھ رہا ہے، جو آنے والے بدھ کے روز چاند کی سطح سے ٹکرا کر ایک بڑا دھماکہ پیدا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق خلا میں جمع ہونے والا یہ ملبہ اور ممکنہ ٹکراؤ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خلا اب بتدریج خطرناک حد تک بھرتی جا رہی ہے۔
خلائی ٹریکنگ کے ماہر بل گرے (Bill Gray) کے مطابق، راکٹ کا اوپری حصہ 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (یعنی آواز کی رفتار سے سات گنا زیادہ تیز رفتار) کی ہولناک رفتا ر سے بدھ کے روز چاند کے آئن سٹائن کریٹر (Einstein Crater) کے قریب جا گرے گا۔ اس ٹکراؤ سے تقریباً 3 ٹن ٹی این ٹی کے برابر توانائی خارج ہوگی، جس سے چاند کی سطح پر لگ بھگ 90 فٹ چوڑا اور 16 فٹ گہرا گڑھا بن جائے گا۔
یہ راکٹ دراصل جنوری 2025 میں دو نجی قمری لینڈرز (فائر فلی ایرو اسپیس کا ‘بلیو گھوسٹ’ اور جاپان کی ‘آئس پیس’ کا لینڈر) کو لے کر خلا میں روانہ ہوا تھا، جس کے بعد سے یہ بے قابو ہو کر مدار میں چکر لگا رہا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک چینی راکٹ کا حصہ حادثاتی طور پر چاند سے ٹکرا چکا ہے۔
اگرچہ ٹکراؤ کا فلیش اتنا مدھم ہوگا کہ اسے زمین سے دیکھنا مشکل ہوگا، تاہم راکٹ کے گرنے سے جو گرد و غبار اور ملبے کا طوفان اٹھے گا وہ دسیوں منٹ تک دوربینوں کے ذریعے دیکھا جا سکے گا۔ چاند پر ہوا نہ ہونے اور کششِ ثقل کم ہونے کی وجہ سے یہ دھول خلا میں میلوں دور تک پھیل جائے گی۔ ناسا کا لریکنسینس آربیٹر’ (LRO) اور جنوبی کوریا کا ‘دانوری’ آربیٹر اس پورے واقعے کی ہنگامی تصاویر اور ڈیٹا اکٹھا کریں گے۔
خلائی کچرے پر بڑھتی ہوئی تشویش: ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اب امریکہ اور چین سمیت دنیا بھر کے ادارے چاند پر اپنے مشنز بھیجنے کی دوڑ میں مصروف ہیں، اس لیے خلا میں بڑھتے ہوئے اس ملبے اور ٹریفک کنٹرول پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا وقت آ چکا ہے تاکہ مستقبل میں چاند پر قائم ہونے والی انسانی بستیوں اور بیسز کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا آوارہ راکٹ چاند سے ٹکرانے کو تیار، 3ٹن TNT کے برابر دھماکے سے 90 فٹ چوڑا گڑھا پڑ جائیگا

