Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا خفیہ ڈیٹا لیک: ’منی نادرا‘ چلا کر شہریوں کی نجی معلومات بیچنے والا خطرناک گروہ گرفتار

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کاز ویز نہیں، پل چاہیے تھے! دلجبہ سیکٹر کے عوام آخر کب تک یہ منظر دیکھتے رہیں گے؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: مہتاب نصیر اعوان

     جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    اس تحریر کا مقصد کسی فردِ واحد یا ادارے پر بلاجواز تنقید نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی ہے جسے ہزاروں لوگ ہر بارش میں بھگتتے ہیں۔
    ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کا اصل ترازو یہ نہیں کہ ان پر کتنے کروڑ خرچ ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ عوام کی زندگی میں کتنی آسانی آئی۔ اگر بھاری فنڈز خرچ ہونے کے بعد بھی ہر سال وہی پرانا عذاب مسلط ہو جائے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر یہ کیسی منصوبہ بندی تھی؟؟؟
    دلجبہ سیکٹر جسے علاقہ غزہ شاہ مراد بھی کہا جاتا ہے، پچھلے کچھ عرصے سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے کاموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گھنوال، ترمنی اور گردونواح میں آمدورفت آسان بنانے کے لیے کاز ویز تو بنا دیے گئے ہیں، بظاہر یہ ایک سہولت ہے، لیکن کیا واقعی اس کا کوئی فائدہ ہوا؟؟؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر مون سون کی بارش کے بعد یہ کاز ویز پانی میں ڈوب جاتے ہیں، راستے کٹ جاتے ہیں اور لوگوں کی زندگیاں ایک بار پھر وہیں کھڑی ہو جاتی ہیں جہاں برسوں پہلے تھیں۔
    علاقہ مکینوں کے لیے یہ کوئی نیا تماشا نہیں۔ آسمان پر بادل آتے ہی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ان کا رابطہ باقی دنیا سے کٹنے والا ہے۔ کوئی بیمار ہو جائے تو اسے ہسپتال لے جانا محال ہو جاتا ہے، بچوں کے سکول کالج چھوٹ جاتے ہیں، نوکری پیشہ افراد دفتر نہیں پہنچ پاتے اور کسانوں کی فصلیں منڈیوں تک نہیں جا سکتیں۔ چند گھنٹوں یا دنوں میں پانی تو اتر جاتا ہے، لیکن اپنے پیچھے ایک سلگتا ہوا سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر اس عذاب کا مستقل حل کب نکلے گا؟
    بحث اس بات پر نہیں کہ کام کیوں ہوا، دکھ اس بات کا ہے کہ وسائل کا درست استعمال کیوں نہیں ہوا؟ کیا ان مخصوص مقامات پر کاز ویز ہی بہترین حل تھے؟ اگر انہی کروڑوں روپوں سے برساتی نالوں کے قدرتی بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پختہ اور اونچے پل بنا دیے جاتے، تو کیا آج ہر بارش میں یہ علاقے یوں کٹ کر رہ جاتے؟ چکوال جیسے بارانی ضلع میں، جہاں برساتی نالے دیکھتے ہی دیکھتے بپھر جاتے ہیں، وہاں ایسی سطحی منصوبہ بندی سمجھ سے بالاتر ہے۔
    لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ کیا ان منصوبوں سے پہلے کوئی سروے کیا گیا تھا؟ کیا پانی کے بہاؤ اور مستقبل کی موسمیاتی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھا گیا تھا؟ اگر ہاں، تو پھر ہر سال یہ ڈوبتے کاز ویز کس کی خامی کا ثبوت ہیں؟
    یہ علاقہ، جس میں گھنوال اور ترمنی جیسے دیہات شامل ہیں، پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 21 کا حصہ ہے، جہاں کی نمائندگی ملک تنویر اسلم اعوان سیتھی کر رہے ہیں۔ وہ ماضی میں پنجاب کے وزیرِ مواصلات و تعمیرات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب علاقے میں سڑکوں اور پلوں کا ذکر آتا ہے، تو عوام بجا طور پر اپنے منتخب نمائندے کی طرف دیکھتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر یہ توقع ہے کہ ان کے مسائل پر وقتی مرہم رکھنے کے بجائے ایسا پائیدار کام کیا جائے گا جو آنے والی نسلوں کے بھی کام آئے۔
    ترقیاتی کاموں پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں، بلکہ وسائل کے درست اور بہتر استعمال کا عوامی مطالبہ ہے۔ متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ شفاف انداز میں اپنی منصوبہ بندی سے عوام کو آگاہ کریں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
    ترقی صرف فیتہ کاٹنے، تختیوں پر نام لکھوانے یا اخبارات کی سرخیوں کا نام نہیں ہوتی۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو برسات کے دنوں میں بھی ایمبولینس کا راستہ نہ روکے، جو کسان کی محنت کو ڈوبنے نہ دے اور جو کسی شہری کو یہ خوف نہ دے کہ دو گھنٹے کی بارش اسے دنیا سے کاٹ دے گی۔
    دلجبہ سیکٹر کے عوام کا مطالبہ نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی ناجائز۔ وہ وقتی تسلیوں کے بجائے مستقل اور پائیدار پل چاہتے ہیں تاکہ ہر سال انہیں ایک ہی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ عوام آج بھی اس جواب کے منتظر ہیں جو محض بیانات کی حد تک نہ ہو، بلکہ زمین پر عملی شکل میں نظر آئے۔ ایسی ترقی، جس کے بعد بارش تو آئے، پانی گزر بھی جائے، مگر زندگی کا پہیہ جام نہ ہو۔

    Related Posts

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مقبول خبریں

    برطانوی سفارتکار بین وارنگٹن کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے ملاقات

    غزہ کے قاتل نیتن یاہو اور اسکی بیوی کے بننے سنورنے پر سالانہ کتنا خرچ آیا ؟ ہوشربا اسکینڈل منظر عام پر

    خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کے پار، امریکہ اور ایران کی کشیدگی نے بگاڑ دیے حالات

    حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول مکمل، فوجی مراکز بھی قبضے میں لے لئے

    کانگو کے 2 اسکولوں میں لگی خوفناک آگ، 19 طالبات سمیت 26 طلبا جاں بحق، 300 گھر بھی ہوئے خاک!

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.