دیربالا (بیورو چیف: ریاض ابوالخیل)
تحصیل کبل میں ہونے والے خودکش دھماکے کے حوالے سے ہر لمحہ نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ سرکاری طور پر اب تک 17 افراد کی شہادت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جبکہ مختلف میڈیا رپورٹس اور دیگر ذرائع کے مطابق شہداء کی تعداد 20 سے تجاوز کر جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
دردناک سانحے کے بعد مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی سوات آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے تحصیل کبل پہنچ گئے۔ انہوں نے دھماکے کے مقام کا دورہ کیا، متعلقہ حکام سے بریفنگ لی، زخمیوں کی عیادت کی اور شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے اس بزدلانہ واقعے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکومت خیبر پختونخوا ہر حال میں صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

