واشنگٹن ڈی سی :امریکی حکومت نے چین کے بنائے ہوئے نئے انسان نما جدید (ہیومنائیڈ) روبوٹس اور پاور انورٹرز کی ملکی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکا کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور توانائی کے نظام کو ممکنہ سائبر خطرات اور قومی سلامتی کے خدشات سے محفوظ رکھنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز ے مطابق یہ اقدامات امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں ان پابندیوں کے تحت ایسے نئے چینی روبوٹ اور پاور اِنورٹرز، جو ابھی تک امریکی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرائے گئے، اب امریکا میں درآمد نہیں کیے جا سکیں گے۔
پاور اِنورٹرز وہ آلات ہیں جو سولر سسٹم، بیٹریوں اور دیگر بجلی کے ذرائع سے آنے والی بجلی کو استعمال کے قابل بناتے ہیں اور اسے بجلی کے نظام اور ڈیٹا سینٹرز تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں
ایف سی سی کا کہنا ہے کہ ان آلات سے سپلائی چین میں کمزوریاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے نہ صرف امریکی معیشت اور قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار نے کہا کہ ادارہ امریکا کی اہم سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا دونوں ممالک کی کاروباری برادری کی معروضی آراء کو اہمیت دے اور چینی کمپنیوں کو بدنام کرنے یا ان کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں دینے سے گریز کرے چینی سفارت خانے نے یہ بھی کہا کہ اگر چین کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو بیجنگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیوں سے سب سے زیادہ اثر چینی کمپنی یونیٹری پر پڑ سکتا ہے، جو ہیومینائیڈ روبوٹس بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے حال ہی میں امریکی محکمہ دفاع نے یونیٹری کو ان چینی کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کے فوجی اداروں سے روابط ہو سکتے ہیں
امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایسے روبوٹس حساس معلومات جمع کر سکتے ہیں، جنہیں بیرونی عناصر نگرانی، غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیت بڑھانے یا دور سے روبوٹس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں
اسی طرح پاور اِنورٹرز کے شعبے میں چین دنیا کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، جہاں سنگرو پاور سپلائی اور ہواوے نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں، اور امریکا پہلے ہی ہواوے پر مختلف پابندیاں عائد کر چکا ہے ۔
موجودہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہو گئی ہیں، اور دیکھنا یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس جنگ میں آگے کیا نیا موڑ آتا ہے۔
کیا مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی جنگ میں امریکا نے بازی پلٹ دی ہے؟ چینی روبوٹس پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر کھلبلی مچ گئی!

