نئی دہلی :بہار کے ضلع پورنیہ سے تعلق رکھنے والے آزاد رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو کی نئی دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ پر اتوار کے روز ہونے والی ایک پریس کانفرنس اس وقت میدانِ جنگ بن گئی جب شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ایک نوجوان نے ان پر چپل اچھال دی۔ واقعے کے بعد طیش میں آئے حامیوں نے حملہ آور کو دبوچ کر اس کی زبردست پٹائی کر دی، جبکہ دہلی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق پپو یادو پارلیمنٹ میں اپنے حالیہ احتجاج اور ‘رام مندر چندہ’ کے تنازع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اسی دوران کچھ افراد کی طرف سے سخت سوالات کیے جانے پر تلخ کلامی شروع ہو گئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے نعرے بازی، دھکا مکی اور کرسیاں ایک دوسرے پر پھینکنے کے خونی ہنگامے میں تبدیل ہو گئی۔ اسی افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نوجوان نے پپو یادو کی جانب چپل اچھال دی۔
واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو نے دعویٰ کیا کہ یہ ان پر گھر میں گھس کر کی جانے والی جان لیوا حملہ اور قتل کی ایک گہری سازش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے ہاتھ میں مبینہ طور پر چاقو بھی تھا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ پپو یادو کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں، ان کے سر کی قیمتیں لگائی جا رہی ہیں اور زندہ جلانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، اور اگر موقع پر میڈیا اور ان کے حامی موجود نہ ہوتے تو شاید وہ زندہ نہ بچتے۔
بھارتی رکن پارلیمنٹ پپو یادیو بھی بنے ” جوتا کلب “ کے ممبر، پریس کانفرنس میں ہنگامہ، 1 گرفتار

