اسلام آباد: پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) میں روایتی سیاسی دشمنیوں اور کٹر مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک انوکھا اتفاقِ رائے دیکھنے میں آیا ہے۔
خزانہ و محصولات سے متعلق سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مثالی یکسوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے اسلامی بینکوں کو پابند کرے کہ وہ خواتین ملازمین کو کام کے دوران عبایا یا کوئی بھی اسلامی لباس پہننے پر مجبور نہ کریں۔
یہ انوکھا معاملہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں زیر بحث آیا۔ پی ٹی آئی کی سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی (جن کا تعلق ایک معروف روحانی گھرانے سے ہے) نے اس مبینہ ’گھمبیر مسئلے‘ کی جانب کمیٹی کی توجہ مبذول کرائی کہ ملک کے اسلامی بینک اپنے ہاں کام کرنے والی خواتین بینک کاروں کو اسلامی لباس پہننے پر مجبور کرتے ہیں۔
سلیم مانڈی والا نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کو حکم دیا کہ وہ تمام اسلامی بینکوں کو ایک نیا سرکلر جاری کرے جس کے ذریعے خواتین کو عبایا، سکارف یا دوپٹے کی پابندی سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کا تعلق بھی ملتان کے ایک بڑے مذہبی اور گدی نشین خاندان سے ہے، جبکہ خود صدر مملکت اور بلاول بھٹو زرداری بھی روایتی طور پر اپنے مذہبی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ایوانِ بالا نے متفقہ طور پر یہ تہیہ کر لیا ہے کہ اسلامی بینکوں کو کم از کم ظاہری طور پر ’اسلامی ماحول‘ کا مظہر نہیں ہونا چاہیے اور خواتین کو اس مبینہ جبر سے نجات دلائی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر زرقا سہروردی نے کمیٹی میں مؤقف اختیار کیا کہ بینک تاحال عبایا اور دوپٹے کے سلسلے میں اپنی نظر ثانی شدہ پالیسی پر عمل درآمد نہیں کرا سکے، اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں آگاہی سیشنز کا انعقاد کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بینکوں میں کام کرنے والی خواتین خود کو تعصب کا شکار سمجھتی ہیں لیکن خوف یا جھجک کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کر پاتیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے بھی اس مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے خواتین ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔
دوسری جانب، گورنر اسٹیٹ بینک نے اراکینِ پارلیمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ وہ پہلے ہی اسلامی بینکوں کو سینیٹ کمیٹی کے اس مؤقف سے آگاہ کر چکے ہیں، جس کے بعد مبینہ طور پر ان بینکوں نے اپنی ایچ آر (ہیومن ریسورس) پالیسی تبدیل بھی کر دی ہے۔ تاہم، سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے تسلی کے لیے تمام متعلقہ بینکوں سے ان کی تازہ ترین ایچ آر پالیسیاں طلب کر لی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بینکنگ کے شعبے میں خواتین کو اسلامی لباس کی قید سے چھٹکارا مل چکا ہے۔
سیاسی دشمنیاں بھلا کر پارلیمنٹ کا انوکھا اتحاد: پی ٹی آئی اور حکومت خواتین کو عبایا سے ’آزاد‘ کرانے پر ایک پیج پر آ گئے!

