بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
خضدار میں گزشتہ کئی برسوں سے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے دعوے مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شہر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام جاری ہیں اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہو رہے ہیں۔تاہم دوسری جانب شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اگر زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو شہر کے متعدد علاقوں میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، پرانا اور ناکارہ سیوریج نظام، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور بنیادی شہری سہولیات کی کمی آج بھی واضح نظر آتی ہے۔
شہریوں کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں ادویات کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، جہاں متعدد مریضوں کو بنیادی ادویات بھی باہر سے خریدنا پڑتی ہیں۔ اسی طرح بے روزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بار بار درخواستیں جمع کرانے کے باوجود بھرتیوں کا عمل شفاف نظر نہیں آتا، جس کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
شہری حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ بعض علاقوں میں ہونے والے ترقیاتی کام مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے نئی تعمیرات بھی مختصر عرصے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عوامی ٹیکس سے مکمل ہونے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور شفافیت کی آزادانہ جانچ کی جائے تاکہ قومی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام، منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی دعووں کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق پر بھی توجہ دی جائے، بنیادی شہری مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، صحت، صفائی، سیوریج، سڑکوں اور روزگار جیسے اہم شعبوں میں عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ترقی کے ثمرات حاصل ہو سکیں


