تحریر :ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
قدرت نے شانگلہ کو بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، بہتے چشمے اور دل موہ لینے والی وادیاں اس دھرتی کا حسن ہیں، مگر اسی حسین سرزمین کے سینے میں ایک ایسا درد دفن ہے جس کی آہٹ شاید ہی کسی نے محسوس کی ہو۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں فطرت تو مسکراتی ہے، مگر ہزاروں آنکھیں ہر روز اپنے پیاروں کی جدائی میں اشک بہاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شانگلہ میں اس وقت پانچ سو سے زائد خواتین بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے سہاگ یا تو کوئلے کی اندھیری کانوں میں ہمیشہ کے لیے بجھ گئے، یا روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں محنت مزدوری کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے۔ غربت نے ان مردوں کو اپنے گھروں سے دور کیا، مگر قسمت انہیں کبھی واپس نہ لا سکی۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ پانچ سو سے زیادہ اجڑے ہوئے گھرانوں کی داستان ہے۔ یہ ان ماؤں کی خاموش سسکیاں ہیں جن کے سروں سے سایہ چھن گیا، اور ان عورتوں کی بے بسی ہے جو ہر صبح اپنے بچوں کی بھوک اور مستقبل کی فکر کے ساتھ ایک نئی آزمائش کا سامنا کرتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس غم زدہ علاقے میں تقریباً چھ سو یتیم بچے بھی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ معصوم بچے ہر عید، ہر خوشی اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے والد کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کی نظریں آج بھی دروازے کی طرف اٹھتی ہیں، جیسے انہیں یقین ہو کہ شاید ایک دن ان کے ابو واپس لوٹ آئیں گے، مگر حقیقت ان کے انتظار سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔
دل کو سب سے زیادہ رنج اس بات کا ہوتا ہے کہ ان بیواؤں اور یتیم بچوں کی ایک بڑی تعداد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سے گھروں میں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک آزمائش بن چکا ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات ان خاندانوں کے لیے ایک خواب بنتی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
شانگلہ کے بے شمار نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کوئلے کی کانوں میں اترتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کان کا ہر سفر واپسی کی ضمانت نہیں، مگر غربت کی زنجیریں انہیں موت کی دہلیز تک لے جاتی ہیں۔ کئی بار کانیں ان کے لیے رزق نہیں بلکہ قبر ثابت ہوتی ہیں، اور پھر ایک اور گھر میں قیامت برپا ہو جاتی ہے۔
یہ صورتحال صرف شانگلہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا ان بیواؤں اور یتیم بچوں کا کوئی حق نہیں؟ کیا ان خاندانوں کی قربانیاں صرف خبروں کی سرخیاں بن کر رہ جائیں گی؟ کیا ان کے لیے مستقل روزگار، مالی معاونت، تعلیم اور سماجی تحفظ کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہونا چاہیے؟


وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، فلاحی ادارے، مخیر حضرات اور معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت فرد ان خاندانوں کی دستگیری کے لیے آگے بڑھے۔ اگر آج ان یتیم بچوں کے ہاتھ تھام لیے جائیں، تو یہی بچے کل اس معاشرے کا روشن مستقبل بن سکتے ہیں۔ اگر ان بیواؤں کو سہارا مل جائے، تو ان کے گھروں کے بجھے ہوئے چراغ دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔
شانگلہ کے پہاڑ آج بھی سرسبز ہیں، مگر ان کی فضاؤں میں سینکڑوں ادھورے خوابوں کی آہیں گونجتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خاموش سسکیوں کو سنا جائے، ان آنسوؤں کو پونچھا جائے اور ان خاندانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ تنہا نہیں، بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔



