Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

      مصنوعی ذہانت کا استعمال: امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی

      گیمنگ کی دنیا میں طوفان: ’جی ٹی اے 6‘ کے خصوصی ڈوئل سینس کنٹرولر کی رونمائی، قیمت اور لانچ کی تاریخ سامنے آ گئی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    لاہور ہائیکورٹ کا کرپٹو کرنسی پر اہم فیصلہ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے اہم قانونی اصول طے کردیا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ، جس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے پِی ٹو پِی (P2P) لین دین سے متعلق ایک اہم مقدمے میں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ صرف یہ حقیقت کہ کسی شخص نے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کا لین دین کیا یا اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوئی، اسے ازخود دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کےمطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایک مقدمہ درج کیا جس میں درخواست گزار حماد علی، اسد امجد اور محمد اطہر پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 13 اور 14 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا، الزام تھا کہ وہ پِی ٹو پِی مرچنٹس کے طور پر کام کرتے ہوئے شکایت کنندہ سے رقوم وصول کرنے والے افراد میں شامل تھے اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں مختلف اوقات میں رقوم منتقل کی گئیں۔
    عدالتی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ محمد فرحان نے ایف آئی اے کو بتایا کہ اسے ایک جاننے والے نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، اس نے ابتدا میں 25 ہزار یو ایس ڈی ٹی خریدے، بعد ازاں مسلسل نقصانات کے باعث مزید سرمایہ کاری کرتا رہا اور مجموعی طور پر 2 لاکھ 70 ہزار یو ایس ڈی ٹی خریدنے کیلئے تقریباً 6 کروڑ 86 لاکھ روپے مختلف افراد کو منتقل کیے۔
    اس کا کہنا تھا کہ اس نے اس مقصد کیلئے اپنا گھر، گاڑیاں، کاروباری اثاثے اور سونا تک فروخت کیا، تاہم بعد میں کرپٹو پلیٹ فارم نے اس کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ورچوئل اثاثوں تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔
    جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے فیصلے میں ایک اہم قانونی اصول طے کیا کہ صرف آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کی منتقلی یا کسی شخص کے اکاؤنٹ میں رقم آنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس نے دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کیا ہے، استغاثہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ ملزمان نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، جعلی ڈیٹا یا جعلی الیکٹرانک ریکارڈ تیار کیا، یا پلیٹ فارم کے اکاؤنٹ منجمد ہونے میں ان کا کوئی کردار تھا۔
    عدالت نے قرار دیا کہ ورچوئل اثاثے یا کرپٹو کرنسی پاکستان میں قانونی زرِ مبادلہ (Legal Tender) نہیں، تاہم صرف اس بنیاد پر انہیں غیر قانونی یا ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا، 2018 میں سٹیٹ بینک کا سرکلر نجی افراد کے لیے فوجداری جرم پیدا نہیں کرتا تھا بلکہ صرف بینکوں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں کے لیے ہدایات تھیں، صرف اس وجہ سے کہ کسی نے یو ایس ڈی ٹی کی خرید و فروخت کی، اسے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک بیرون ملک ادائیگی یا غیر قانونی زرمبادلہ کا واضح تعلق ثابت نہ ہو۔
    فیصلے کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ درخواست گزاروں نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ بنایا، الیکٹرانک فراڈ کیا یا اس پلیٹ فارم کو کنٹرول کیا جس نے شکایت کنندہ کا اکاؤنٹ منجمد کیا، مزید برآں تمام شواہد دستاویزی نوعیت کے ہیں، درخواست گزار تحقیقات میں شامل ہو چکے ہیں اور ان کی جسمانی تحویل میں تفتیش کی ضرورت بھی ثابت نہیں ہوئی۔
    عدالت نے ان وجوہات کی بنا پر درخواست گزاروں کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے ایک، ایک ملین روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    Related Posts

    ہنگورجا: دکان کا شٹر کھولتے ہوئے کرنٹ لگنے سے 15 سالہ نوجوان جاں بحق

    میرا بیٹا روسی ارب پتی کی جانب سے کی گئی شادی کے اخراجات کی رقم واپس کر دے گا، صدر ٹرمپ

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کریک ڈاؤن، 23 دہشت گرد گرفتار، ساہیوال سے را کا دہشت گرد بھی پکڑا گیا

    مقبول خبریں

    میرا بیٹا روسی ارب پتی کی جانب سے کی گئی شادی کے اخراجات کی رقم واپس کر دے گا، صدر ٹرمپ

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کریک ڈاؤن، 23 دہشت گرد گرفتار، ساہیوال سے را کا دہشت گرد بھی پکڑا گیا

    19 گھنٹوں تک ٹوائلٹ میں پھنسے بیمار معمر شوہر کو نہ نکالنے پر بیوی گرفتار

    شکل مومناں۔۔۔ نمازی کے بہروپ میں مساجد کے باہر سے گاڑیاں چوری کرنیوالا گرفتار

    آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

    بلاگ

    ڈرون: آسمان کی وہ آنکھ جس نے جنگ اور زندگی بدل دی

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    خلیج اور فارس کی جنگ—امکانات، اثرات اور پاکستان کی حکمتِ عملی

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.