واشنگٹن/تہران:ایران اور امریکا کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے پیر کو موصول ہونے والی تازہ ترین تجویز اگرچہ امریکا کے تمام مطالبات پر پوری نہیں اترتی، تاہم یہ پہلے سے موجود تعطل کو توڑنے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوئی ہے۔
امریکی ردعمل اور ‘ایگسیوز’ کی رپورٹ
امریکی جریدے ‘ایگسیوز’ نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ:
”ایران کی آخری تجویز بالکل ویسی تو نہیں تھی جیسی ہم چاہتے تھے، لیکن یہ ہماری توقعات سے کہیں زیادہ بہتر تھی۔“
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نے اپنے سخت موقف میں کچھ لچک دکھائی ہے جس نے امریکی انتظامیہ کو حیران کر دیا ہے۔
ثالثوں کا کردار اور ترامیم کا عمل
رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اس تجویز کے موصول ہونے کے بعد سے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے فریقین (جن میں پاکستان اور دیگر ممالک شامل ہیں) تہران کے ساتھ مل کر اس ڈرافٹ کی نوک پلک سنوارنے اور اس میں ضروری ترامیم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
مذاکرات کا اگلا مرحلہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت اس تجویز کو دوبارہ تحریر (Redrafting) کیا جا رہا ہے تاکہ اسے دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول بنایا جا سکے۔ سفارتی ماہرین اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے سخت الٹی میٹم اور دھمکیوں کے بعد مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔
اگرچہ ابھی حتمی معاہدے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن اس ’توقع سے بہتر‘ تجویز نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے چھٹنے کی موہوم سی امید پیدا کر دی ہے۔
امید کی کرن:ایران کی نئی تجویز، ”وہ تو نہیں جو ہم چاہتے تھے، مگر توقع سے بہت بہتر “، امریکی حکام کا حیران کن اعتراف

