واشنگٹن:امریکا کی بحریہ (U.S. Navy) نے اپنی فضائی جنگی صلاحیتوں کو مزید طاقتور بناتے ہوئے اپنے اگلے دور کے طویل فاصلے کے فضا سے فضا میں مار کرنے والے نئے میزائل ’اے آئی ایم-424 میلِس‘ (AIM-424 Malice) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
اس جدید ترین میزائل کو خصوصی طور پر ایف-35 سی (F-35C) لڑاکا طیارے کے اندرونی ہتھیاروں کے خانے (Weapons Bay) میں فٹ ہونے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے طیارے کی ’اسٹیلتھ‘ (خفیہ اور ریڈار سے بچنے والی) صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔ یہ میزائل جدید ترین دفاعی اور جنگی خطرات کے خلاف روایتی فاصلوں سے کہیں زیادہ دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس وقت اس میزائل کی آزمائشی پروازیں اور ٹیسٹنگ ایف-35 سی اور ایف/اے-18 سپر ہورنیٹ (F/A-18 Super Hornets) دونوں طیاروں پر تیزی سے جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد بحریہ کے پورے کیریئر ایئر ونگ کو طویل فاصلے تک مار کرنے والی زبردست فائر پاور سے لیس کرنا ہے۔
اگرچہ میزائل کی قطعی رینج اور کارکردگی کی تکنیکی تفصیلات کو تحال خفیہ رکھا گیا ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیزائن پیچیدہ اور سخت جنگی ماحول میں دشمن کے جدید ترین طیاروں کو پیچھے چھوڑنے اور اؤٹ رینج کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔
امریکی بحریہ کا نیا شاہکار: ایف-35 سی کے لیے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ’اے آئی ایم-424 میلِس‘ کی نقاب کشائی

