تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
مقامِ شکر ہے کہ بالآخر وہ دن بھی آ پہنچا جس کا انتظار شاید برسوں سے تھا۔ دیر بالا پریس کلب کی رجسٹریشن کا خواب حقیقت کا روپ دھار گیا۔ یہ محض ایک ادارے کی رجسٹریشن نہیں، بلکہ دیر بالا کی صحافتی برادری کے ایک دیرینہ خواب، ایک خواہش اور ایک ادھوری کوشش کی تکمیل ہے۔

میری اپنی صحافتی زندگی بھی اب تقریباً 38 برس پر محیط ہوچکی ہے۔ اس طویل سفر میں کبھی سولو فلائٹ کی، کبھی دوسرے اضلاع کے پریس کلبوں سے وابستہ رہا، کبھی صحافت کے نشیب و فراز اکیلے برداشت کیے اور کبھی ساتھیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا موقع ملا۔ بہرحال، دیر آئے، درست آئے۔
لیکن اس خوشی کے موقع پر اپنی صحافتی برادری سے چند شکوے بھی ہیں، اور یہ شکوے کسی فردِ واحد سے نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ہم سب سے ہیں۔
مقررہ اجلاس میں عدم شرکت، ماہانہ ڈونیشن کی عدم ادائیگی، ایک دوسرے سے معمولی نوعیت کی نوک جھونک، ذاتی اختلافات، عہدیداروں کی عدم دلچسپی اور اجتماعی معاملات سے لاتعلقی—یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ادارے کی بنیادوں کو کمزور کرسکتے ہیں۔ پریس کلب صرف ایک عمارت، ایک بورڈ یا رجسٹریشن کا کاغذ نہیں ہوتا؛ یہ صحافیوں کے اتحاد، وقار، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اجتماعی آواز کی علامت ہوتا ہے۔
رجسٹریشن کا مرحلہ مکمل ہوگیا، مگر اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس ادارے کو صرف نام کی حد تک قائم رکھنا چاہتے ہیں یا اسے دیر بالا کی صحافتی برادری کا ایک مضبوط، باوقار اور فعال مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اس ادارے کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی رنجشوں، ذاتی پسند و ناپسند اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہونا ہوگا۔
اتفاق میں طاقت ہے اور انتشار میں کمزوری۔
ہمیں اجلاسوں میں شرکت کرنی ہوگی، اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی، عہدیداروں کا ساتھ دینا ہوگا، اختلاف ہو تو اسے دلیل اور شائستگی کے دائرے میں رکھنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ سوچنا ہوگا کہ پریس کلب کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کا مشترکہ اثاثہ ہے۔
آج جب دیر بالا پریس کلب رجسٹرڈ ہوچکا ہے تو ہمیں اسے ایک نئے سفر کا آغاز سمجھنا چاہیے۔ یہ سفر اتحاد کا ہو، باہمی احترام کا ہو، صحافتی اصولوں کی پاسداری کا ہو اور دیر بالا کے عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں بلند کرنے کا ہو۔
میرا وہ ادھورا خواب جو برسوں سے دل کے کسی کونے میں زندہ تھا، آج کسی حد تک مکمل ہوگیا ہے۔ اب خواہش صرف یہ ہے کہ آنے والی نسلیں اس پریس کلب کو ایک مضبوط، منظم اور مثالی صحافتی ادارے کے طور پر دیکھیں۔
دیر بالا پریس کلب رجسٹرڈ ہوگیا؛ اب اسے متحد، فعال اور باوقار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ کامیابی مبارک، مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ہم اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں گے اور کہیں گے:
ہم الگ الگ آوازیں نہیں، ایک مضبوط صحافتی آواز ہیں۔





