تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے حسنِ اخلاق، ملنساری، خلوص اور کردار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام بنا لیتی ہیں۔ صابر حسین کھوکھر بھی انہی ہردلعزیز اور خوش اخلاق شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی محنت، دیانت داری، قابلیت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ نورپور تھل کی کھوکھر برادری کا نام بھی روشن کیا۔
صابر حسین کھوکھر ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سماجی خدمت اور لوگوں سے محبت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ان کے والد غلام قمر اپنے علاقے کی معروف سماجی شخصیت تھے۔ والد کی اچھی تربیت، اعلیٰ اقدار اور مثبت سوچ نے صابر حسین کھوکھر کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ جہاں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، اپنے خوش اخلاق رویے اور شائستہ انداز کی وجہ سے لوگوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
صابر حسین کھوکھر نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نورپور تھل سے حاصل کی اور وہیں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اپنی تعلیمی جدوجہد کو جاری رکھا اور راولپنڈی سے ایف اے مکمل کیا۔ بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
ان کا تعلیمی سفر اس بات کی واضح مثال ہے کہ کامیابی کے لیے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں بلکہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت، تعلیم اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔
عملی زندگی میں کامیابی
تعلیم مکمل کرنے کے بعد صابر حسین کھوکھر نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان میں بطور اسسٹنٹ ملازمت کا آغاز کیا۔ ایک عام عہدے سے عملی زندگی کا آغاز کرنے والے صابر حسین کھوکھر نے اپنی محنت، فرض شناسی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اپنا سرمایہ بنایا۔
انہوں نے ہر ذمہ داری کو پوری لگن اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا اور اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ان کی مسلسل محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ گریجویشن کے بعد انہیں اسسٹنٹ مینیجر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ ترقی محض ایک عہدے کا حصول نہیں بلکہ ان کی طویل محنت، تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات انجام دیں اور اپنے تجربے میں اضافہ کرتے رہے۔ آج وہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان، گلگت زون میں منیجر اینڈ ایچ آر ایڈمن، سکیل 18 کے اہم عہدے پر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دے رہے ہیں۔
کامیابی کا اصل راز
صابر حسین کھوکھر کی کامیابی کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ تعلیم، محنت، تجربہ، دیانت داری اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہیں۔ ان کا سفر اس نوجوان نسل کے لیے ایک سبق ہے جو کامیابی کے حصول کے لیے شارٹ کٹ تلاش کرتی ہے۔
ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان اگر اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو، اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا کرے اور مشکل حالات میں بھی ہمت نہ ہارے تو منزل ایک نہ ایک دن ضرور ملتی ہے۔
صابر حسین کھوکھر اپنی کامیابی کو صرف اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم قرار دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں:
"شکر الحمدللہ، جو مقام اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، اس پر اس عظیم بابرکت ذات کا بہت شکر گزار ہوں۔”
یہ الفاظ ان کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔ انسان کی اصل عظمت بھی یہی ہے کہ بلندیوں پر پہنچنے کے بعد بھی وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے۔
صابر حسین کھوکھر کی کامیابی صرف ان کے خاندان کے لیے ہی باعثِ فخر نہیں بلکہ نورپور تھل اور کھوکھر برادری کے لیے بھی ایک اعزاز ہے۔ ایک چھوٹے شہر سے اپنی عملی زندگی کا سفر شروع کرکے ملک کے ایک بڑے ادارے میں گریڈ 18 کے اہم انتظامی منصب تک پہنچنا ان کی صلاحیتوں اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایسی شخصیات دراصل معاشرے کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی کامیابیاں نئی نسل کو یہ حوصلہ دیتی ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود اگر ارادے مضبوط، سوچ مثبت اور محنت مسلسل ہو تو انسان اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے۔
صابر حسین کھوکھر کی شخصیت کا خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ عہدہ اور ذمہ داری بڑھنے کے باوجود ان کے مزاج میں سادگی، خلوص اور خوش اخلاقی نمایاں ہے۔ یہی اوصاف کسی بھی انسان کو حقیقی معنوں میں بڑا بناتے ہیں۔
صابر حسین کھوکھر کی زندگی ایک روشن پیغام ہے کہ کامیابی کسی ایک دن کی محنت کا نام نہیں بلکہ برسوں کی جدوجہد، تعلیم، تجربے، کردار اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا سفر یقیناً ان نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنے مستقبل کو روشن بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ صابر حسین کھوکھر کو مزید کامیابیاں، عزت، صحت اور خوشیاں عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح اپنے خاندان، برادری، علاقے اور ادارے کے لیے باعثِ فخر بنائے۔ آمین۔


