بیجنگ :چین میں ’ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز‘ کے دوران ایک انسان نما ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9.39 سیکنڈ میں طے کیا جو جمیکا کے رنر یوسین بولٹ کے عالمی ریکارڈ سے زیادہ تیز ہے۔
یہ روبوٹ جسے ’بیجنگ ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر‘ نے تیار کیا، اس ایونٹ کی 100 میٹر دوڑ میں شریک ہوا۔
یوسین بولٹ نے سنہ 2009 میں برلن ورلڈ چیمپئن شپ میں مردوں کی 100 میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ 9.58 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ قائم کیا تھا۔
ادھر چینی سمارٹ فون بنانے والی کمپنی ’آنر‘ کا کہنا ہے کہ اس کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ نے مقابلوں کے آغاز سے قبل ایک آزمائشی دوڑ میں یہی فاصلہ 9.32 سیکنڈ میں طے کیا تھا، جو سرکاری مقابلے میں ریکارڈ کیے گئے وقت سے بھی زیادہ تیز تھا۔
’آنر‘ کا روبوٹ اس سے قبل اپریل میں بیجنگ میں 21 کلومیٹر کی میراتھن میں بھی شریک ہوا تھا اور اس نے 50 منٹ 26 سیکنڈ کا وقت ریکارڈ کیا تھا، جس نے چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیز رفتار ترقی کی جانب خاص توجہ مبذول کرائی۔
چین کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق میراتھن میں شرکت کے وقت اس روبوٹ کا قد 169 سینٹی میٹر تھا اور اس کی ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔
ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے آغاز سے قبل محققین نے اس کی ٹانگیں 10 سینٹی میٹر مزید لمبی کر دیں اور ان کی لمبائی ایک میٹر پانچ سینٹی میٹر تک پہنچا دی تاکہ دوڑ میں اس کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔


