سکھر(ڈویزنل بیورو چیف نصیر لاشاری)
سکھر صادق آباد سے تعلق رکھنے والی بھٹی برادری کے مرد و خواتین نے مبینہ طور پر 9 سالہ بچی کے اغواء اور تاوان طلب کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام سے فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں مسمات رخسانہ بھٹی، عالم خاتون، غلام نبی اور دیگر افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رخسانہ بھٹی کے دیور منظور بھٹی، ان کی اہلیہ مینا سلیم بھٹی، حاجی شاہ محمد اور لیاقت کمبوہ ایک منظم گروہ کے ساتھ مل کر کمسن بچیوں کو اغواء کرنے اور ان کے اہل خانہ سے تاوان طلب کرنے میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاوان ادا نہ کرنے کی صورت میں مبینہ طور پر بچیوں کو آگے فروخت کر دیا جاتا ہے۔رخسانہ بھٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کی 9 سالہ بیٹی علیشاہ کو بھی مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا ہے اور اس کی رہائی کے لیے 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا شوہر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہے، جبکہ وہ مالی طور پر انتہائی کمزور ہیں اور اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مبینہ ملزمان انہیں مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور تاوان ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں اور ان کی بیٹی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ پنجاب، ڈی پی او رحیم یار خان اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، 9 سالہ بچی کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، الزامات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔


