تہران،نجف :ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ عباس عراقچی عراق پہنچ گئے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز اپنے ٹیلی گرام چینل پر اپنی آمد کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ عراقی شہر نجف پہنچ گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اس وقت آبنائے ہرمز کے بارے میں عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو گذشتہ آٹھ روز سے جاری ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ہماری کوشش ہے کہ عمان کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے جلد از جلد ایسا راستہ طے کیا جائے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ کسی مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ متفقہ راستہ ’نہ موجودہ شمالی راستہ ہو گا اور نہ موجودہ جنوبی راستہ، بلکہ ایک نیا راستہ ہو گا جس پر دونوں فریق متفق ہوں گے۔‘
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ’کسی بھی صورت 28 فروری سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی جس کے ردعمل میں ایران نے یہ اہم آبی گزر عملاً بند کر دی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس آبنائے سے گزرنے والی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق رکھتا ہے۔
دوسری طرف ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مار گرایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان سے متعلق بی بی سی فارسی نے یہ خبر دی ہے کہ ’ڈرون کو ایرانی فضائیہ کے نئے اور جدید دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، ایران، عباس عراقچی نجف پہنچ گئے

