نئی دہلی : بھارت کی نئی دہلی ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم ‘دخترانِ ملت’ (DEM) کی سربراہ اور کشمیری حریت پسند رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں کی اپیلوں پر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔ ان اپیلوں میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید اور طویل قید کی سزاؤں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
بھارت کی عدالت نے حریت پسند رہنما ، دختران ملت کی بانی آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دیدیا، سزا 17 جنوری کو سنائی جائیگی
جسٹس پرتھبا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے آسیہ اندرابی کی عمر قید جبکہ ان کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کی 30، 30 سال قید کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔ عدالت نے اپیلوں پر فیصلہ آنے تک ان کی سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں پر بھی این آئی اے کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت رواں برس اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
عدالت نے اپیل دائر کرنے میں ہونے والی تاخیر کو قبول کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اپیل کنندگان کے اہل خانہ جموں و کشمیر میں مقیم ہیں، جہاں ان کے پاس مقررہ وقت میں قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے مناسب وسائل اور سہولیات میسر نہیں تھیں۔ بنچ نے ٹرائل کورٹ کا تمام ریکارڈ اور الیکٹرانک شواہد الگ سے محفوظ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
2018میں گرفتار کی جانے والی آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں پر الزام تھا کہ وہ بھارت مخالف بیانیے، عسکریت پسندی کی ترغیب اور علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (ایکس/ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب) اور پاکستانی ٹی وی چینلز کا استعمال کر رہی تھیں۔ ان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی متعدد سنگین دفعات بشمول بغاوت، مجرمانہ سازش اور ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔
نئی دہلی ہائی کورٹ کا بڑا اقدام: کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر این آئی اے سے جواب طلب!

