نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے حریت پسند تنظیم ’’دختران ملت‘‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیا۔ اندرابی کو سزا 17جنوری کو سنائی جائے گی۔
ایڈیشنل سیشن جج چندرجیت سنگھ نے خاتون حریت پسند لیڈر آسیہ اندرابی کو یو اے پی اے کی دفعہ 18 (سازش کی سزا) اور دفعہ 38 (دہشت گرد تنظیم کی رکنیت سے متعلق جرم) کے تحت قصوروار ٹھہرایا۔ وہیں اس کیس میں کورٹ حتمی سزا 17 جنوری کو سنائے گی۔
بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے آسیہ اندرابی کے خلاف ’’بھارت کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جنگ چھیڑنے‘‘ اور ’’مجرمانہ سازش‘‘ کے تحت یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کیس میں اندرابی کی دو دیگر خاتون ساتھی بھی ملزم ٹہرایا گیا تھا۔
آسیہ اندرابی نے نے 1987 میں خواتین پر مشتمل حریت پسند تنظیم دُختران ملت (ڈی ای ایم) کی بنیاد رکھی تھی۔ انہیں اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جے کے ایل ایف، جماعت اسلامی سمیت کشمیر کی دیگر علیحدگی پسند تنظیموں کی طرح دختران ملت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو جو ڈاکٹر قاسم کی عرفیت سے جانے جاتے ہیں ، بھی گزشتہ تین دہائیوں سے جیل میں آزادی کی خواہش کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ فکتو کو سال 2003میں ایک کشمیری پنڈت رائٹس کے کارکن ہریدے ناتھ وانچو کے 1992میں قتل کیس میں مجرم قرار دیکر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ میں رہائی کے لیے اپیل دائر کی تھی جس میں ان کے وکلا نے بیس سال سے زاید عرصہ سزا کاٹنے کی دلیل دی تھی، تاہم کورٹ نے ان کی درخواست کو مسترد کر کے عمر قید کو ’تا حیات‘ سے تعبیر کیا تھا۔
بھارت کی عدالت نے حریت پسند رہنما ، دختران ملت کی بانی آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دیدیا، سزا 17 جنوری کو سنائی جائیگی

