راولپنڈی: راولپنڈی کے علاقے لال کرتی (تھانہ سول لائنز) میں شوہر کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر زخم کے نشان موجود تھے۔
پیر کے روز پولیس کو جاری ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر حنا جاوید کی موت کی وجہ کا واضح تعین نہیں ہو سکا۔
حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج ہے جو مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کر کے تین دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حنا جاوید کے دل کے گرد خون بھرا ہوا تھا۔ ان کا پوسٹ مارٹم مرنے کے 12 گھنٹے کے بعد ڈاکٹر ماریہ خالد نے کیا۔
موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے لاش سے حاصل سیمپلز پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بجھوائے گئے ہیں۔
22 اگست کو مقتولہ کے بھائی نے کہا تھا کہ انہیں بہن کے سسر کی جانب سے فون موصول ہوا جس کے بعد وہ موقعے پر پہنچے تو حنا کی لاش باتھ روم کے فرش پر پڑی تھی۔
واقعے کے بعد مقتولہ حنا جاوید کے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک الگ اور تفصیلی بیان میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی اپیل کی گئی ہے۔
اہلِ خانہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ’مقدمے میں نامزد مقتولہ کے سسر اصغر علی کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔‘
سسر ،شوہر کے ہاتھوں قتل ہونیوالی حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف

