واشنگٹن:امریکی حکومت نے ملک میں کاروباری اور سیاحتی ویزوں پر مقیم ایسے غیر ملکیوں کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے امریکا میں داخل ہونے کے بعد سیاسی پناہ (Asylum) کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس فیصلے کی زد میں تقریباً 2 لاکھ افراد آ سکتے ہیں، جو امریکی تاریخ میں ویزوں کی منسوخی کا سب سے بڑا اجتماعی اقدام ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق، محکمہ خارجہ جلد ہی ان تمام بی ون (B1) اور بی ٹو (B2) ویزوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کرنے جا رہا ہے جو 2016 سے 2026 کے دوران جاری کیے گئے تھے اور ان کے ہولڈرز اب پناہ کے متلاشی ہیں۔
محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ مل کر ایسے غیرملکیوں کو تلاش کر رہا ہے جو مختصر مدت کے لیے امریکا آئے لیکن یہاں آنے کے بعد مستقل طور پر رہنے کے لیے پناہ کی درخواستیں دیں۔ ان کے نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جائیں گے
ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ کرسٹوفر لینڈو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ دنیا بھر کے لوگ اس جعلی پناہ کے دعوؤں سے تنگ آ چکے ہیں، اور پناہ کو امیگریشن قوانین سے بچنے کا راستہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویزوں کی منسوخی کے بعد ان افراد کی فوری ملک بدری عمل میں نہیں لائی جائے گی، تاہم ان کی حیثیت تبدیل کر کے انہیں سیاح یا کاروباری مسافر کے درجے سے ہٹا دیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز سے ہی ویزا کے قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کی ہسٹری کا مطالبہ اور مہنگے بانڈز کی شرط شامل ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے خلاف قانونی چیلنجز کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بی ون ، بی ٹو ویزے کیا ہیں؟
ویزوں کی اس کیٹیگری کو نان امیگرنٹ کہا جاتا ہے اور یہ کاروبار کے لیے یا سیاحت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ویزے منسوخ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ان لوگوں کو ملک بدر کر دیا جائے مگر جن افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں اور وہ پراسس میں ہیں ان میں سے زیادہ تر کا سٹیٹس تبدیل ہو جائے گا اور وہ کاروباری یا سیاحتی مقصد کے تحت آنے والے مسافر کا سٹیٹس کھو دیں گے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے آزادی اظہارے رائے اور قانونی پراسس کے تحت ملنے والے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور خصوصاً اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے 2024 کی الیکشن مہم کے دوران غیرقانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔
بعض قسم کے ورک ویزوں کی درخواست پر نئی اور بھاری فیسیں عائد کی گئی ہیں۔اسی طرح حکومت کی جانب سے امیگریشن کے خلاف اس سخت کارروائی کو عدالتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
امریکا میں سیاسی پناہ کے خواہشمند 2 لاکھ غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ !

