واشنگٹن:امریکی حکومت نے ہنر مند غیر ملکی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے والے آجرین کے لیے ایک نیا اور انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے ایچ ون بی (H-1B) ویزا پروگرام پر $103,265 کی بھاری بھرکم فیس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے ہی اقدامات کو وفاقی عدالتوں میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اب اس نئے مجوزہ اصول کو لاگو کرنے کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں قانونی اور غیر قانونی امیگریشن پر قدغن لگانا ہمیشہ سے ان کی بنیادی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کا کہنا ہے کہ اس بھاری فیس کا مقصد قانونی امیگریشن سسٹم کے انتظامی اخراجات کو پورا کرنا ہے، جبکہ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ امریکی کمپنیاں غیر ملکی ورکرز کی بجائے مقامی اور انتہائی ہنر مند امریکی شہریوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں :
ٹرمپ کو جھٹکا، امریکی عدالت نے ایچ ون بی (H-1B ) ویزا کی درخواست کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس وصولی روک دی
انتظامیہ کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ امریکی ورکرز کو کم اجرت والے غیر ملکیوں سے ریپلیس کیا جا سکے۔ اس سے پہلے ستمبر 2025 میں بھی ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ایسی ہی فیس عائد کی گئی تھی، جسے جون میں ایک وفاقی جج نے غیر قانونی ٹیکس قرار دے کر روک دیا تھا، جبکہ دسمبر 2025 میں ایک دوسرے فیصلے میں صدارتی اختیارات کو تسلیم بھی کیا گیا تھا جس پر اپیل کا عمل جاری ہے۔
اس نئے مجوزہ ضابطے کے نفاذ سے پہلے 30 دن کی عوامی آراء (Public Comments) کا موقع دیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار بھی اس پالیسی کو عدالتوں میں اس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ یہ قانون سازی کی حدود سے تجاوز ہے اور ایک غیر اعلانیہ ٹیکس کی حیثیت رکھتی ہے۔
کالعدم یا حد بندیاں کیے جانے والے اس پروگرام کے تحت ہر سال 85,000 ایچ ون بی ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جن میں بھارت، چین اور دیگر ممالک کے ماہرین نمایاں تعداد میں آتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے آئی ٹی، انجینئرنگ، تعلیم اور میڈیکل کے شعبوں میں ہنر مند افراد کی شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا ایچ ون بی پروگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، پھر 1 لاکھ ڈالر فیس نافذ

