جنگ کی حمایت 37 فیصد سے گر کر 31 فیصد پر آ گئی، ریپبلکنز کا اعتماد 77 فیصد سے گر کر 69 فیصد پر، جنگی اخراجات بڑھنے پر عوام بیزار ہونے لگے
واشنگٹن:امریکی سیاسی منظرنامے سے ایک اہم ترین سروے سامنے آیا ہے جس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں ریپبلکن پارٹی کی حمایت مارچ کے بعد سے اب تک 8 پوائنٹس تک کم ہو چکی ہے۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکی فوجی کارروائی کے حق میں حمایت گر کر صرف 31 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ رواں ماہ کے آغاز میں 34 فیصد اور مارچ میں 37 فیصد تھی۔
اس مجموعی گراوٹ کی بڑی وجہ ریپبلکنز کی اپنی صفوں میں حمایت کا کم ہونا ہے، جو 77 فیصد سے سلجھ کر 69 فیصد پر آ گئی ہے۔ دوسری جانب، 83 فیصد امریکی اب یہ توقع کر رہے ہیں کہ یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہے گا، جبکہ آزاد ووٹرز نے بھی کانگریس کے انتخابات کے حوالے سے ریپبلکنز (19 فیصد) کے مقابلے میں ڈیموکریٹس (33 فیصد) کو زیادہ ترجیح دی ہے۔ یہ سروے 1,215 بالغ امریکیوں کی آراء پر مبنی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپبلکنز کی حمایت میں یہ 8 پوائنٹس کی گراوٹ ہی وہ اصل نمبر ہے جو اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب اس جنگ کے لیے پارٹی کا ‘بنیادی فرش’ (Floor) بھی ہل رہا ہے۔ ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز تو اس جنگ سے مہینوں پہلے ہی لاتعلق ہو چکے تھے، لیکن اب جو طبقہ کھسک رہا ہے وہ اصل میں ٹرمپ کا وہ ‘بیس’ ہے جس نے چھ ماہ کی مسلسل بمباری کے دوران بھی ان پر اعتماد برقرار رکھا تھا۔ اب یہ ووٹرز ٹھیک اس وقت پیچھے ہٹ رہے ہیں جب ایران طویل جنگ کے ذریعے امریکی کیلنڈر اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا انتظار کر رہا تھا۔

