واشنگٹن ڈی سی :امریکا میں ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ایچ ون بی ویزوں پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجسنی ’روئٹرز‘ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ یہ فیس دراصل ایک ایسا ٹیکس ہے جس کی اجازت کانگریس نے نہیں دی تھی۔
بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکِن نے یہ فیصلہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں سنایا۔ یہ مقدمہ ستمبر میں ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس پالیسی کے خلاف تھا، جس کے تحت انتہائی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی ویزا کی فیس میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا تھا۔
انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ فیس دراصل ایک قانونی مالی جرمانہ ہے، جس کا اختیار صدر کو امیگریشن قانون کے تحت حاصل ہے، کیونکہ وہ ایسے غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کر سکتے ہیں جنہیں وہ امریکا کے مفاد کے خلاف سمجھیں۔
تاہم جج سوروکِن نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیس جرمانہ نہیں بلکہ ایک ٹیکس ہے، اور صدر کے پاس کانگریس کی منظوری کے بغیر اس طرح کا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس فیصلے کو یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نافذ نہیں کر سکتیں۔‘
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’اس ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی نوعیت اور اطلاق یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، چاہے اسے کچھ بھی کہا جائے۔‘
جج نے امریکی سپریم کورٹ کے فروری کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں ٹرمپ کی وسیع ٹیرف پالیسی کو بھی کالعدم قرار دیا گیا تھا، اور کہا گیا تھا کہ ’ہنگامی اختیارات کے تحت ایسا اقدام نہیں کیا جا سکتا۔ اسی منطق کے تحت امیگریشن قانون بھی اس ٹیکس کی اجازت نہیں دیتا۔‘
ٹرمپ کو جھٹکا، امریکی عدالت نے ایچ ون بی (H-1B ) ویزا کی درخواست کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس وصولی روک دی

