لندن+ نیویارک عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان برقرار ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کا اعلان اور امریکی فیڈرل ریزرو کا سخت مالیاتی موقف ہے۔
جمعرات کے روز اسپاٹ گولڈ (Spot Gold) کی قیمت میں مزید 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 4,066.24 ڈالر فی اونس تک گر گئی ہے۔ گزشتہ روز سونے کی قیمتیں پہلے ہی ایک ہفتے کی نچلی ترین سطح پر آ چکی تھیں۔ اسی طرح اگست کی ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر بھی 0.1 فیصد کی کمی کے بعد 4,077 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ کے پیچھے دو اہم عوامل کارفرما ہیں:
1. جیو پولیٹیکل بحران: ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے اعلان نے دنیا بھر میں افراطِ زر (Inflation) اور شرحِ سود میں اضافے سے متعلق خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ سونے کی مانگ کو متاثر کر رہا ہے۔
2. معاشی پیشگوئیاں: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے سال 2026 کے لیے عالمی معاشی نمو کا ہدف کم کر کے 3.0 فیصد کر دیا ہے، جبکہ بینک آف امریکہ نے فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسیوں کو بنیاد بناتے ہوئے 2026 کے لیے سونے کی اوسط قیمت کی پیش گوئی میں 14 فیصد کمی کر دی ہے، جس سے نئی قیمت 4,360 ڈالر فی اونس مقرر کی گئی ہے۔
اگرچہ سونا روایتی طور پر غیر یقینی صورتحال میں ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں فیڈرل ریزرو کے جارحانہ مالیاتی فیصلوں نے سونے کی چمک کو ماند کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز میں اگلی امریکی پالیسیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی فوجی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی، فیڈرل ریزرو پالیسیاں، عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کو بریک لگ گئی

