تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ان کی ایک روایت انہیں دوسرے افسران سے ممتاز کرتی ہے۔ جہاں اکثر اضلاع میں کھلی کچہریاں ائیرکنڈیشنڈ دفاتر یا بڑے ہالز میں منعقد ہوتی ہیں، وہاں انہوں نے اپنے دفتر کے برآمدے کو عوامی سماعت کا مقام بنایا۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں جب سائل پسینے میں شرابور ہو کر انصاف کی امید لیے آتے ہیں تو وہ خود بھی انہی حالات میں بیٹھ کر ان کی بات سنتے ہیں۔ عملے نے متعدد بار مشورہ دیا کہ کھلی کچہری دفتر کے اندر منتقل کر دی جائے، مگر ان کا جواب قابلِ غور تھا۔ ان کے مطابق اگر سائل باہر گرمی میں کھڑے ہوں اور افسر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا ہو تو فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جب عوام اپنے افسر کو بھی انہی حالات میں دیکھتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی تکلیف کو سمجھنے والا شخص ان کے سامنے موجود ہے۔ شاید یہی احساس انصاف پر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ قیادت صرف اختیارات کا نام نہیں بلکہ مثال قائم کرنے کا نام بھی ہے۔ اسی تناظر میں پنجاب پولیس کے ایک اور افسر، سابق ایس ایس پی سپیشل برانچ آر او لاہور معاذ ظفر، حالیہ دنوں اس وقت زیر بحث آئے جب انہیں صدر پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کے اعزاز کے بعد بعض حلقوں میں سوال اٹھا کہ آخر ایسی کون سی غیر معمولی خدمات تھیں جن کی بنیاد پر انہیں ملک کے اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق بہت سی کارروائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی مکمل تفصیلات فوری طور پر منظر عام پر نہیں لائی جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کسی افسر کی کارکردگی کا پورا پس منظر صرف متعلقہ اداروں کو معلوم ہوتا ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق معاذ ظفر کو معرکۂ حق کے دوران والٹن و ماڈل ٹاؤن میں غیر معمولی کارکردگی، بہادری، پاک افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری، حساس تنصیبات کے تحفظ، اور دشمن کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے ملبے کو بروقت محفوظ بنانے میں نمایاں کردار پر ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 8 مئی 2025 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے حساس علاقے میں آنے والے ایک بھارتی ڈرون کو جیمنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کارروائی میں معاذ ظفر نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم اس کارروائی کی مکمل تکنیکی تفصیلات سرکاری سطح پر عام نہیں کی گئیں، کیونکہ ایسے معاملات قومی سلامتی سے متعلق ہوتے ہیں۔
کسی بھی اعزاز پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست جب کسی افسر کو اعزاز دیتی ہے تو اس کے پس منظر میں ایسی معلومات اور جائزے بھی شامل ہوتے ہیں جو عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہوتے۔ کسی افسر کا لہجہ نرم ہے یا سخت، یا اسے کون سا اعزاز ملا کہ کیا اس نے اپنے منصب کا حق ادا کیا، عوام کی خدمت کی اور ریاست کی ذمہ داری نبھائی؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ایسے افسران کی حوصلہ افزائی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے ادارے کے مورال میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ملک کو ایسے ہی افسران کی ضرورت ہے جو عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سنیں، اور جب وقت آئے تو خاموشی سے ریاست کے دفاع میں اپنا کردار بھی ادا کریں۔ یہی وہ کردار ہے جو حقیقی معنوں میں پولیسنگ کو محض ملازمت نہیں بلکہ قومی خدمت بناتا ہے۔
اختیار نہیں، مثال قائم کرنے کا نام قیادت ہے: پولیس کے گمنام ہیروز کی ان کہی داستان،معاذ ظفر کو ستارۂ امتیاز کیوں ملا؟

