Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کرائم کہانی ،ہاشم نورزئی قتل کیس، پولیس نے ’احتجاج اور فاتحہ میں شریک رہنے والا‘ ملزم کیسے پکڑا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر رحمت اللہ بلوچ

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں گزشتہ ہفتے قتل ہونے والے معروف ریسٹورنٹ مالک محمد ہاشم نورزئی کے کیس میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان مقتول کے سابق شراکت دار ہیں اور ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ قتل کی وجہ فریقین کے درمیان مالی لین دین کا پرانا تنازع تھا۔محمد ہاشم نورزئی کو گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں اس وقت فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی سفید رنگ کی ویگو گاڑی میں کچلاک سے کوئٹہ کی جانب آرہے تھے۔واقعے کے بعد مقتول کے اہل خانہ، قبیلے کے افراد، تاجروں، سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ گرفتار ملزمان مقتول کے قریبی جاننے والے اور دوست تھے جو نہ صرف ان کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے بلکہ مقتول کے گھر جا کر فاتحہ خوانی میں بھی حصہ لیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شبہ نہ ہونے دیں۔
    پولیس افسر کے مطابق واقعے کے بعد تفتیشی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جس کے نتیجے میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
    انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ملزمان نے جرم سے انکار کیا تاہم ڈیجیٹل شواہد سامنے رکھے جانے پر انہوں نے قتل کا اعتراف کر لیا۔پولیس افسر کے مطابق ملزمان کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ واردات میں استعمال ہونے والی کالے رنگ کی ویگو گاڑی بھی سیٹلائٹ ٹاؤن سے نکلی تھی۔
    ملزمان نے کارروائی کے دوران گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کر دی تھی تاکہ شناخت چھپائی جا سکے جبکہ واردات کے بعد گاڑی شہر سے باہر منتقل کر دی گئی جس کی برآمدگی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
    پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے۔
    واقعے کے بعد سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا گیا تھا کہ کالے رنگ کی ویگو میں سوار ملزمان نے پہلے مقتول کی گاڑی کا تعاقب کیا پھر اس کے آگے جا کر چلتی گاڑی سے فائرنگ کی۔
    جب مقتول کی گاڑی رک گئی تو حملہ آور نے گاڑی قریب لے جا کر مزید گولیاں چلائیں اور صرف 25 سیکنڈ کے اندر واردات انجام دے کر کوئٹہ کی جانب فرار ہو گئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ واردات کے بعد ملزمان کی گاڑی سیٹلائٹ ٹاؤن پہنچی جہاں اسے ایک گھر میں پارک کیا گیا۔
    اسی سراغ کی بنیاد پر پولیس نے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔
    پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے قتل سے قبل محمد ہاشم نورزئی کی باقاعدہ ریکی بھی کی تھی۔
    پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان ماضی میں مقتول کے کاروباری شراکت دار رہے تھے تاہم بعد میں مالی لین دین پر تنازع پیدا ہو گیا۔اگرچہ ایک مرحلے پر معاملہ وقتی طور پر طے پا گیا تھا لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات موجود تھے۔
    محمد ہاشم نورزئی کوئٹہ کے معروف تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایئرپورٹ روڈ پر ’کابل جان‘ کے نام سے ریسٹورنٹ قائم کیا تھا جو مختصر عرصے میں شہر کے معروف ریسٹورنٹس میں شمار ہونے لگا۔

    Related Posts

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مقبول خبریں

    ساس کا اپنی بہو اور اس کے یتیم بچوں پر  ساتھیوں مدد سے  تشدد

    ٹریفک حادثہ، راہگیر جاں بحق

    نئی آٹو پالیسی، مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر

    آئل ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، باپ جاں بحق، بیٹا شدید زخمی

    سونے کے بھاؤ میں کمی

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.