Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      یوٹیوب شارٹس میں بڑی تبدیلی: اب تصاویر کے ذریعے بھی اسٹوری سنائیں

      سب میرین کیبل میں خرابی، انٹر نیٹ سست ، موبائل رجسٹریشن کا عمل معطل: پی ٹی اے کا اہم بیان سامنے آ گیا

      گوگل پر اربوں ڈالر کا جرمانہ: سویڈش عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ!

      مصنوعی سورج بننے کا راستہ ہموار، چین نے بنا لیا دنیا کا سب سے بڑا میگنیٹ

      دنیا کےکروڑ پتیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، کس ملک میں سب سے زیادہ ملئنیر بنے ؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کرائم کہانی ،ہاشم نورزئی قتل کیس، پولیس نے ’احتجاج اور فاتحہ میں شریک رہنے والا‘ ملزم کیسے پکڑا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر رحمت اللہ بلوچ

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں گزشتہ ہفتے قتل ہونے والے معروف ریسٹورنٹ مالک محمد ہاشم نورزئی کے کیس میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان مقتول کے سابق شراکت دار ہیں اور ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ قتل کی وجہ فریقین کے درمیان مالی لین دین کا پرانا تنازع تھا۔محمد ہاشم نورزئی کو گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں اس وقت فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی سفید رنگ کی ویگو گاڑی میں کچلاک سے کوئٹہ کی جانب آرہے تھے۔واقعے کے بعد مقتول کے اہل خانہ، قبیلے کے افراد، تاجروں، سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ گرفتار ملزمان مقتول کے قریبی جاننے والے اور دوست تھے جو نہ صرف ان کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے بلکہ مقتول کے گھر جا کر فاتحہ خوانی میں بھی حصہ لیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شبہ نہ ہونے دیں۔
    پولیس افسر کے مطابق واقعے کے بعد تفتیشی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جس کے نتیجے میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
    انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ملزمان نے جرم سے انکار کیا تاہم ڈیجیٹل شواہد سامنے رکھے جانے پر انہوں نے قتل کا اعتراف کر لیا۔پولیس افسر کے مطابق ملزمان کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ واردات میں استعمال ہونے والی کالے رنگ کی ویگو گاڑی بھی سیٹلائٹ ٹاؤن سے نکلی تھی۔
    ملزمان نے کارروائی کے دوران گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کر دی تھی تاکہ شناخت چھپائی جا سکے جبکہ واردات کے بعد گاڑی شہر سے باہر منتقل کر دی گئی جس کی برآمدگی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
    پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے۔
    واقعے کے بعد سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا گیا تھا کہ کالے رنگ کی ویگو میں سوار ملزمان نے پہلے مقتول کی گاڑی کا تعاقب کیا پھر اس کے آگے جا کر چلتی گاڑی سے فائرنگ کی۔
    جب مقتول کی گاڑی رک گئی تو حملہ آور نے گاڑی قریب لے جا کر مزید گولیاں چلائیں اور صرف 25 سیکنڈ کے اندر واردات انجام دے کر کوئٹہ کی جانب فرار ہو گئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ واردات کے بعد ملزمان کی گاڑی سیٹلائٹ ٹاؤن پہنچی جہاں اسے ایک گھر میں پارک کیا گیا۔
    اسی سراغ کی بنیاد پر پولیس نے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔
    پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے قتل سے قبل محمد ہاشم نورزئی کی باقاعدہ ریکی بھی کی تھی۔
    پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان ماضی میں مقتول کے کاروباری شراکت دار رہے تھے تاہم بعد میں مالی لین دین پر تنازع پیدا ہو گیا۔اگرچہ ایک مرحلے پر معاملہ وقتی طور پر طے پا گیا تھا لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات موجود تھے۔
    محمد ہاشم نورزئی کوئٹہ کے معروف تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایئرپورٹ روڈ پر ’کابل جان‘ کے نام سے ریسٹورنٹ قائم کیا تھا جو مختصر عرصے میں شہر کے معروف ریسٹورنٹس میں شمار ہونے لگا۔

    Related Posts

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟ چند سادہ احتیاطی تدابیر جو جان بچا سکتی ہیں

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟

    اور:- کوئی تو ہماری ان چیخوں کو سنتا

    مقبول خبریں

    باغ سے سوکھے پتے لینے پرہاتھ کی انگلی کاٹ دی

    حیدرآباد اور کوٹری سے چار نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد، شناخت نہ ہونے پر سپردِ خاک

    موبائیل گیم پر رابطہ، پنجاب کی لڑکی نےکھنڈو  کے نوجواں سے شادی کرلی

    یوٹیوب شارٹس میں بڑی تبدیلی: اب تصاویر کے ذریعے بھی اسٹوری سنائیں

    جہانیاں،علامہ ناصر مدنی کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے دل کا دورہ، ملتان اسپتال منتقل

    بلاگ

    کرائم کہانی ،ہاشم نورزئی قتل کیس، پولیس نے ’احتجاج اور فاتحہ میں شریک رہنے والا‘ ملزم کیسے پکڑا؟

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟ چند سادہ احتیاطی تدابیر جو جان بچا سکتی ہیں

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟

    اور:- کوئی تو ہماری ان چیخوں کو سنتا

    روپوال گمشدگی کیس: حقیقت یا خوفناک اتفاق؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.