لاہور:
پنجاب حکومت نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی بیواؤں کے لیے ایک بڑا اور فلاحی فیصلہ کرتے ہوئے ان کی تاحیات پینشن کا قانون بحال کر دیا ہے۔ اس اقدام سے ہزاروں بیواؤں کو مالی تحفظ فراہم ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے اس اہم فیصلے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس سلسلے میں باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین کی بیواؤں کے لیے پینشن کی ادائیگی پر عائد کی گئی 10 سالہ حد (Time Limit) کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں پینشن کے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے بیواؤں کے لیے پینشن کی وصولی کی مدت کو 10 سال تک محدود کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے بہت سی خاندانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ اب اس نئی پیش رفت کے بعد، سرکاری ملازمین کی بیوہ خواتین اپنے شوہر کے انتقال کے بعد تاحیات پینشن وصول کرنے کی حقدار ہوں گی۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق، اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور متعلقہ دفاتر کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ نئے قوانین کے تحت پینشن کے کیسز کی کارروائی یقینی بنائیں۔ پنجاب حکومت کے اس اقدام کو سرکاری ملازمین کی تنظیموں اور بیوہ خواتین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جسے ایک دیرینہ مطالبے کی منظوری قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب کے سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کے لیے بڑی خوشخبری: تاحیات پینشن کا قانون بحال

