واشنگٹن:ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اے آئی (SpaceXAI) نے مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنا اب تک کا سب سے طاقتور اور ذہین ماڈل "گروک 4.5” (Grok 4.5) جاری کر دیا ہے۔ یہ کمپنی کے عوامی سطح پر آنے اور کوڈنگ اسٹارٹ اپ "کرسر” (Cursor) کو حاصل کرنے کے بعد پہلا بڑا ریلیز ہے۔
گروک 4.5 کی خصوصیات:
اسپیس ایکس اے آئی کے مطابق گروک 4.5 کو خاص طور پر کوڈنگ اور خودکار کاموں (agentic-work) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر اسے "Opus-کلاس” ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اپنے حریفوں کے مقابلے میں زیادہ تیز، کم خرچ اور کارکردگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل انجینئرنگ اور علمی کاموں میں اینتھروپک کے جدید ترین ماڈلز کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
گروک 4.5 کی قیمت اسے مارکیٹ میں انتہائی مسابقتی بناتی ہے۔ کمپنی کے مطابق:
ان پٹ قیمت: 2 ڈالر فی ملین ٹوکنز
آؤٹ پٹ قیمت: 6 ڈالر فی ملین ٹوکنز
یہ قیمتیں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ٹاپ ماڈلز کے مقابلے میں کافی کم ہیں، جس سے یہ کاروباری اداروں اور ڈویلپرز کے لیے ایک پرکشش انتخاب بن گیا ہے۔
یہ ریلیز ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی دنیا میں سخت مقابلہ جاری ہے۔ ایک طرف جہاں اسپیس ایکس اے آئی گروک 4.5 پیش کر رہی ہے، وہیں اوپن اے آئی (OpenAI) نے بھی حکومتی منظوری کے بعد اپنے نئے "جی پی ٹی 5.6” (GPT-5.6) ماڈلز کا سلسلہ (جس میں سول، ٹیرا اور لونا شامل ہیں) عالمی سطح پر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دستیابی:
گروک 4.5 کو آج سے ‘گروک بلڈ’ (Grok Build)، ‘کرسر’ کے تمام پلانز اور اسپیس ایکس اے آئی کنسول کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، تاحال یہ ماڈل یورپی یونین (EU) کے ممالک میں دستیاب نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ گروک 4.5 ابھی اپنے حریفوں کے بہترین ماڈلز کی کارکردگی کے مقابلے میں کچھ جگہوں پر پیچھے ہو سکتا ہے، لیکن اس کی رفتار، کم قیمت اور ایلون مسک کی جارحانہ ڈیولپمنٹ پالیسی اسے مارکیٹ میں ایک بڑا حریف بناتی ہے۔

