تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور میں ہر مون سون کے موسم کے ساتھ ایک مانوس منظر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ شہر میں موسلادھار بارش ہوتی ہے، سڑکیں زیرِ آب آ جاتی ہیں، ٹریفک کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بار بار وہی تین نام نمایاں ہونے لگتے ہیں: تاج پورہ، لکشمی چوک اور پانی والا تالاب۔ چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا ڈوبی ہوئی گاڑیوں، بند سڑکوں اور پھنسے ہوئے شہریوں کی ویڈیوز سے بھر جاتا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو جاتا ہے کہ شاید لاہور میں سب سے زیادہ بارش ہمیشہ انہی علاقوں میں ہوتی ہے۔
لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا اس عام تاثر کی سائنسی بنیاد بھی موجود ہے؟
اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ موسمیاتی مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بارش کی خبروں میں ان علاقوں کا ذکر اکثر نمایاں ہوتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر بار یہی علاقے لاہور میں سب سے زیادہ بارش حاصل کریں۔ دراصل عوامی سطح پر ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ "بارش کہاں برستی ہے اور پانی کہاں جمع ہوتا ہے، یہ دو الگ چیزیں ہیں۔” اسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے برسوں سے ایک غلط فہمی پروان چڑھتی رہی ہے۔
بارش موسم کے ان مظاہر میں سے ہے جن میں انتہائی زیادہ مقامی تغیر (Spatial Variability) پایا جاتا ہے۔ درجہ حرارت کے برعکس، جو وسیع علاقے میں نسبتاً یکساں رہتا ہے، بارش چند کلومیٹر کے فاصلے پر بھی نمایاں طور پر مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک گرج چمک والا بادل شہر کے ایک حصے میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش برسا سکتا ہے، جبکہ اسی وقت چند کلومیٹر دور واقع علاقہ اس سے آدھی بارش بھی نہ حاصل کرے۔ جنوبی ایشیا کے مون سون والے خطے میں یہ ایک عام موسمیاتی حقیقت ہے۔
حالیہ برسوں کے بارش کے ریکارڈ اس حقیقت کی واضح تصدیق کرتے ہیں۔ بعض شدید مون سون بارشوں میں تاج پورہ نے سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی، جبکہ بعض مواقع پر لاہور ایئرپورٹ پہلے نمبر پر رہا۔ اسی طرح کئی بار پانی والا تالاب اور لکشمی چوک بھی سرفہرست بارش ریکارڈ کرنے والے مقامات میں شامل رہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لاہور میں کوئی ایک ایسا مقام نہیں جہاں ہر بار سب سے زیادہ بارش ہوتی ہو۔ ہر بارش کا نظام اپنی نوعیت، بادلوں کی حرکت، ہوا کی سمت اور مقامی موسمی حالات کے مطابق مختلف علاقوں کو متاثر کرتا ہے۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر تاج پورہ، لکشمی چوک اور پانی والا تالاب ہی میڈیا کی سرخیوں میں کیوں رہتے ہیں؟
اس کی پہلی وجہ سرکاری بارش پیمائش کا نظام ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) اور واسا (WASA) نے لاہور کے مختلف اہم مقامات پر بارش ناپنے کے لیے رین گیجز نصب کر رکھے ہیں۔ تاج پورہ، لکشمی چوک اور پانی والا تالاب انہی سرکاری مانیٹرنگ اسٹیشنوں میں شامل ہیں۔ چونکہ یہاں بارش کی مقدار مسلسل ریکارڈ کی جاتی ہے، اس لیے ہر شدید بارش کے بعد انہی مقامات کے اعداد و شمار فوری طور پر دستیاب ہوتے ہیں اور میڈیا انہیں نمایاں انداز میں نشر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان علاقوں میں ہمیشہ سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے، بلکہ صرف یہ کہ یہاں مستند اور فوری پیمائش دستیاب ہوتی ہے۔
اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو لاہور کی جغرافیائی ساخت ہے۔ لکشمی چوک اور پانی والا تالاب تاریخی لاہور کے نسبتاً نشیبی علاقوں میں واقع ہیں۔ بارش کا پانی قدرتی طور پر اونچی جگہوں سے نیچی جگہوں کی طرف بہتا ہے اور ایسے مقامات پر جمع ہو جاتا ہے جہاں نکاسی کا نظام محدود یا سست ہو۔ شدید مون سون بارشوں کے دوران اردگرد کی سڑکوں، بازاروں اور گلیوں کا پانی انہی علاقوں میں آ کر جمع ہوتا ہے۔ نتیجتاً یہاں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہتا ہے اور شہریوں کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں بارش بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہوئی ہے، حالانکہ اصل مسئلہ پانی کا جمع ہونا ہوتا ہے، نہ کہ لازماً زیادہ بارش ہونا۔
پانی والا تالاب کا نام خود اس کی تاریخی حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جدید شہری ترقی سے بہت پہلے یہ ایک قدرتی نشیبی مقام تھا جہاں بارش کا پانی جمع ہو جاتا تھا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ یہاں عمارتیں، سڑکیں اور تجارتی مراکز قائم ہو گئے، لیکن زمین کی قدرتی ساخت مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔ آج بھی بارش کا پانی انہی قدرتی نشیبی مقامات کی طرف رخ کرتا ہے۔
دوسری جانب تاج پورہ کی صورتحال کچھ مختلف ہے۔ یہ لاہور کے مشرقی حصے میں واقع ہے، جہاں شمال مشرق سے آنے والی مرطوب مون سون ہوائیں نسبتاً زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ موسمیات کے ماہرین کے مطابق اس علاقے میں مقامی نوعیت کے گرج چمک والے بادل (Convective Thunderstorms) زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو محدود علاقے میں غیر معمولی بارش برساتے ہیں جبکہ چند کلومیٹر دور واقع علاقوں میں بارش کی مقدار نمایاں طور پر کم رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاج پورہ اکثر شدید بارشوں میں سرفہرست مقامات میں شامل نظر آتا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں ہمیشہ سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔
لاہور کی تیز رفتار شہری ترقی نے بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں شہر کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھلی زمین، باغات اور پانی جذب کرنے والی مٹی کی جگہ کنکریٹ، اسفالٹ اور بلند عمارتوں نے لے لی ہے۔ ماضی میں بارش کا بڑا حصہ زمین میں جذب ہو جاتا تھا، مگر اب یہی پانی فوری طور پر سطحی بہاؤ (Surface Runoff) میں تبدیل ہو کر نکاسی آب کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نسبتاً کم دورانیے کی شدید بارش بھی شہری سیلاب کا سبب بن جاتی ہے۔
اس صورتحال میں اربن ہیٹ آئی لینڈ (Urban Heat Island) کا اثر بھی قابلِ ذکر ہے۔ کنکریٹ، اسفالٹ، بلند عمارتیں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی حرارت شہروں کو اردگرد کے دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ گرم رکھتی ہے۔ یہ اضافی حرارت فضا میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے اور مقامی سطح پر گرج چمک کے بادلوں کی شدت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں اس رجحان پر تحقیق ہو چکی ہے، اور لاہور بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
اس تمام صورتحال پر موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) نے مزید اثرات مرتب کیے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق گرم ہوتی ہوئی فضا زیادہ نمی اپنے اندر محفوظ رکھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں شدید بارشوں کے واقعات کی شدت اور تعداد دونوں بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مون سون کے انداز میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں طویل خشک وقفوں کے بعد غیر معمولی شدت کی بارشیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ کسی ایک بارش کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن مجموعی رجحان اسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور واسا کی جانب سے تاج پورہ، لکشمی چوک یا پانی والا تالاب کے لیے گزشتہ تیس برس کا مسلسل عوامی اسٹیشن وائز بارش کا ریکارڈ دستیاب نہیں۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں ہمیشہ انہی مقامات پر سب سے زیادہ بارش ہوئی، سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔ دستیاب ریکارڈ صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف بارشوں میں مختلف مقامات سرفہرست رہے ہیں۔
پالیسی سازوں کے لیے اس تحقیق کا پیغام واضح ہے۔ صرف مون سون سے پہلے نالوں کی صفائی کافی نہیں۔ لاہور کو ایک جامع شہری آبی نظم و نسق (Urban Water Management) کی ضرورت ہے، جس میں جدید نکاسی آب کا نظام، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی، سبز علاقوں میں اضافہ، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے، نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل بہتری اور ہر نئے ترقیاتی منصوبے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھنا شامل ہو۔ شہری منصوبہ بندی کو قدرتی ہائیڈرولوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا، اس کے خلاف نہیں۔
عوام کے لیے بھی ایک اہم سبق موجود ہے۔ اگلی بار جب خبروں میں تاج پورہ، لکشمی چوک یا پانی والا تالاب کا نام نمایاں ہو، تو یہ یاد رکھیے کہ یہ صرف بارش کی مقدار نہیں بلکہ ایک بڑے نظام کی علامت ہیں۔ یہ نام ہمیں جغرافیہ، شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب، موسمیاتی نگرانی اور موسمیاتی تبدیلی کی مشترکہ کہانی سناتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بارش کہاں سب سے زیادہ ہوئی؟ بلکہ یہ ہے کہ لاہور کے کچھ علاقے ہر سال بارش کے بعد کیوں زیرِ آب آ جاتے ہیں؟
جب تک ہم اس بنیادی فرق کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہر مون سون کے بعد وہی سوال، وہی سرخیاں اور وہی مسائل ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔ اس حقیقت کو سمجھنا ہی ایک ایسے لاہور کی تعمیر کی پہلی شرط ہے جو مستقبل کے مزید شدید اور غیر متوقع مون سون کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔


