تحریر حاجی فضل محمود انجم
رحمت اللہ بلوچ جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جی جی! آخر کب تک اس ملک کی عوام بنیادی سہولیات کیلئے در بدر ٹھوکریں کھاتی رہے گی؟ آخر کب تک نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لئے روزگار کی تلاش میں مایوسی کا شکار ہوتے رہیں گے؟ آخر کب تک بیمار علاج کیلئے تڑپتے رہیں گے۔ آخر کب تک طالب علم معیاری مفید تعلیم کیلئے بھٹکتے رہیں گے۔ آخر کب تک عام آدمی انصاف کے لیے ترستا رہے گا؟
یہ اکیسویں صدی ہے، مگر آج بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں جدید ہسپتال،اعلیٰ تعلیمی ادارے، معیاری ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولیات موجود ہی نہیں ہیں۔ ترقی صرف بڑے شہروں تک محدود رہے اور چھوٹے شہر محرومی کی تصویر بن جائیں تو یہ مساوی ترقی نہیں بلکہ عدمِ توازن کی علامت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
قومیں صرف بجٹ سے نہیں کرتیں بلکہ ترجیحات سے ترقی کرتی ہیں۔ جب تعلیم اور صحت ترجیحات میں ہی شامل نہ ہو اور اپنی ان ذمہ داریوں سے جان چھڑانا مقصد بنا لیا جاۓ تو کونسی ترقی اور کونسا انقلاب۔؟آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی ہے۔
آپ اختلاف ضرور کریں مگر نفرت کے بغیر۔! سوال ضرور اٹھائیں۔۔۔۔۔ مگر دلیل کے ساتھ۔! اپنےحقوق مانگیں مگر قانون کے دائرے میں۔!
آیئےاپنے شہر کیلئے۔۔۔۔ اپنے علاقے کیلئے اور اپنے وطن کی بہتری کے لئے مثبت آواز بنیں کیونکہ خاموش قومیں تاریخ میں گم ہو جاتی ہیں جبکہ بیدار قومیں اپنی تقدیر خود لکھتی ہیں۔
سوچئے۔۔۔۔ سوال کیجئے… اور اپنے حق کیلئے باوقار اور پرامن انداز میں اپنی آواز کو بلند کیجیئے۔


