اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2026 سے ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی مراعات ختم کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں پر مجموعی بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ بڑھ کر 25 فیصد ہو گیا ہے۔
اعلیٰ سطحی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے فنانس ایکٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے گزشتہ سال دی گئی سیلز ٹیکس کی 1 سے 2 فیصد تک کی چھوٹ کی شق (Sunset Clause) میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔ بجٹ کے نفاذ سے قبل یہ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ مراعات جاری رہیں گی، لیکن حتمی قانون میں اس حوالے سے کوئی نئی شق شامل نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، ٹیکس مراعات کے خاتمے اور درآمدی گاڑیوں پر لاگو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے یکجا اثرات کے باعث ہائبرڈ گاڑیوں پر مجموعی بالواسطہ ٹیکس کی شرح اب 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس اقدام سے درآمد شدہ ہائبرڈ گاڑیاں صارفین کے لیے کافی مہنگی ہو جائیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ اس حکومتی پالیسی کے برعکس ہے جس کے تحت صارفین کو ایندھن کی بچت کرنے والی اور کم اخراج والی گاڑیوں کی جانب راغب کیا جا رہا تھا۔ ٹیکس میں اس اضافے سے ان گاڑیوں پر حاصل ہونے والی ٹیکس کی وہ سہولت ختم ہو گئی ہے جو اب تک لوگوں کو ماحول دوست اور کم پیٹرول خرچ کرنے والی گاڑیوں کی خریداری پر آمادہ کر رہی تھی۔
اس اضافے سے مارکیٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے، جو کہ گاڑیوں کے خریداروں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی؛ حکومت نے ٹیکس مراعات ختم کر دیں، مجموعی ٹیکس 25 فیصد

