واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں ‘پیدائشی حقِ شہریت’ (Birthright Citizenship) کے قانون کے خلاف اپنی مہم کو تیز کرتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ سے اس معاملے کی دوبارہ سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں اس اصول کو برقرار رکھنے والے عدالتی فیصلے کو "انصاف کی سنگین غلطی” قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں الزام لگایا کہ جنوبی سرحد اور میکسیکو میں ایسے بل بورڈز اور اشتہارات لگائے جا رہے ہیں جو "پیدائشی شہریت” کو فروغ دے رہے ہیں اور جس کے تحت "ڈلیوری 4,000 ڈالر سے شروع” ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے اسے ایک "اسکینڈل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اربوں ڈالر غیر قانونی طور پر کمائے جا رہے ہیں اور کوئی بھی شخص رقم دے کر امریکی شہریت خرید سکتا ہے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ "امریکی شہریت فروخت کے لیے نہیں ہے” اور اگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کو تبدیل نہ کیا تو یہ اقدام امریکا کو تباہ کر سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ جون میں امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس میں انہوں نے پیدائشی شہریت کے خاتمے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس کی قیادت میں عدالت نے 3-6 کے تناسب سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ 14ویں آئینی ترمیم کے تحت امریکا کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر بچہ، قطع نظر اس کے والدین کی شہریت یا قانونی حیثیت کے، خود بخود امریکی شہری ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران اسے ایک کلیدی ایشو بنایا تھا اور وہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے اس حق کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ماہرینِ قانون کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے کسی اہم فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کی درخواستیں بہت کم کامیاب ہوتی ہیں، اور اس طرح کے فیصلے کو بدلنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو کہ ایک انتہائی مشکل عمل ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اور عدالتی حکام اس نئی سیاسی کشمکش پر کیا ردعمل دیتے ہیں، کیونکہ ٹرمپ کا یہ مطالبہ امریکی امیگریشن پالیسی میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔

