لاہور :ماڈل ٹاؤن میں گھریلوملازمہ سے زیادتی اور ہلاکت کے کیس میں 17 سالہ لڑکی کی پوسٹمارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی ہے جس میں غیرمعیاری اسقاط حمل کو موت کی وجہ قرار دیاگیا ہے ۔
مقامی میڈیا کے مطابق مئی میں زیادتی کا کیس سامنےآیاتھا جس کے بعد متاثرہ لڑکی کو اہلخانہ نجی ہسپتال لے گئے تھے جہاں غیرقانونی طورپر اسقاط حمل کیاگیا اور معاملہ مزید بگڑگیا، بعدازاں لڑکی کو سروسز ہسپتال منتقل کرنا پڑاجہاں وہ دم توڑگئی تھی ۔
یہ بھی پڑھیں :
ملازمہ سے زی ادتی و ۃ ل ا ک ت کیس: سروسز اسپتال کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سمیت تین لیڈی ڈاکٹرز کے خلاف بڑا ایکشن
پولیس کے پاس معاملہ پہنچا اور لڑکی کی موت کے بعد مقدمے میں 302 کی دفعہ شامل کرلی گئی ، پوسٹمارٹم کرایاگیا جس کی اب رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ میں بتایاگیاہےکہ اسقاط حمل کے باعث متعدد پیچیدگیاں بھی پیداہوئی تھیں، جلد پر لگے ٹانکوں سے پیپ بہہ رہی تھی۔
مزید پڑھیں :
لاہور:لواحقین کے شدید دباؤ کے الزامات: 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیشرفت
گھریلوملازمہ سے زیادتی اور قتل کیس : 17 سالہ عائشہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ جاری

