Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

      سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

      ہائیبرڈ گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بڑی خوشخبری، لمبے انتظار کے بعد سیلز ٹیکس میں کمی!

      چینی قونصل جنرل اور علی ڈار کی ملاقات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

       خام تیل کو صاف کرنے کے لیے چینی نئی ٹیکنالوجی تیار

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    چودہ نکاتی معاہدہ: امن کی دستاویز یا طاقت کی نئی تقسیم؟امریکہ اور ایران معاہدے کا جائزہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹرمحمددائود

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک امن معاہدہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدہ محض جنگ بندی کا اعلان نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت، معیشت اور سفارت کاری کے ایک نئے نظام کا خاکہ ہے، اگر کوئی اس کی تہوں میں پوشیدہ مفادات کو پڑھ لے۔ سوال یہ نہیں کہ معاہدہ کس نے جیتا، بلکہ یہ ہے کہ کس کو کیا ملا اور کس قیمت پر ملا۔
    معاہدے کا پہلا نکتہ جنگ بندی ہے۔ بظاہر خطے میں انسانی جانوں کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے جہاں کوئی بھی جنگ کو مزید آگے بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ برداشت نہیں کر سکتا تھا، جبکہ ایران جاری پابندیوں، معاشی دباؤ اور اندرونی مشکلات کی وجہ سے مزید تصادم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس طرح جنگ بندی ایک اخلاقی ضرورت کے بجائے ایک سیاسی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔
    معاہدے کی سب سے اہم شق 300 ارب ڈالر کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی ہے۔ اس نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی ایران کی تعمیرِ نو میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرے گا؟ اگر یہ درست ثابت ہوا تو اس کا نہ صرف ایران کی معیشت بلکہ پورے خطے کے معاشی نقشے پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مفادات اکثر وعدوں کو عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی قربان کر دیتے ہیں۔
    اس معاہدے کے تحت ایران نے ایک بار پھر وعدہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور اپنے افزودہ یورینیم کی نگرانی آئی اے ای اے کو کرنے دے گا۔ مغرب اسے ایک بڑی کامیابی کہے گا، لیکن ایرانی قیادت اسے مختلف انداز سے دیکھ سکتی ہے۔ پہلی بار ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو مجموعی طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے اسے محدود انداز میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تہران کے لیے سفارتی فتح کا دعویٰ کرنا جائز ہوگا۔
    اقتصادی پابندیوں کا بتدریج خاتمہ، عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی واپسی اور منجمد اثاثوں کی رہائی یقیناً ایران کے لیے سب سے بڑے معاشی فوائد ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دی جائیں گی یا ہر مرحلے پر نئی شرائط عائد ہوں گی؟ ماضی میں ایران نے بہت زیادہ وعدوں اور بہت کم عملی اقدامات کی شکایت کی ہے۔
    آبنائے ہرمز کے بارے میں معاہدے کی شق بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی توانائی کی شریان ہے اور اس کی حفاظت نہ صرف امریکہ یا ایران کا مسئلہ ہے بلکہ یورپ، ایشیا اور خلیجی ریاستوں کی معیشت کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ممالک زیادہ تیل درآمد کرتے ہیں، وہ شاید اس معاہدے سے سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔
    لیکن پورے معاہدے میں ایک خاموش کھلاڑی بھی ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہے، لیکن امکان ہے کہ اس کا سب سے بڑا اثر اسرائیل کی سلامتی کی حکمتِ عملی پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اسرائیل کا ردِعمل اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کے لیے بہت اہم ہو سکتا ہے۔
    ایک اور حقیقت ناقابلِ تردید ہے۔ یہ معاہدہ کوئی مستقل امن معاہدہ نہیں بلکہ صرف 60 دن کا عبوری روڈ میپ ہے۔ اس لیے اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ پابندیوں کی رفتار، جوہری نگرانی کی حدود، علاقائی ملیشیاؤں کا کردار، اور شام، عراق، لبنان اور یمن میں ایران کے اثر و رسوخ جیسے حساس امور پر اب بھی بحث ہوگی۔ اگر ان نکات پر اتفاق نہ ہو سکا تو آج کا معاہدہ کل کی ناکامی بن سکتا ہے۔
    پاکستان کے لیے اس معاہدے سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی تیل کی واپسی سے پاکستان کے درآمدی بل میں کمی آ سکتی ہے۔ اگر خطے میں تناؤ کم ہوتا ہے تو تجارتی راہداریوں اور علاقائی روابط کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ لیکن پاکستان کو اس پورے عمل میں جذبات کے بجائے متوازن سفارت کاری کو ترجیح دینا ہوگی۔
    اس معاہدے کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فریق اسے اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کر دیا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پابندیوں میں نرمی، سرمایہ کاری اور اپنے جوہری حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ شاید یہی کامیاب سفارت کاری کا اصل امتحان ہے کہ دونوں فریق خود کو فاتح سمجھتے ہیں۔
    لیکن تاریخ دعوؤں سے نہیں بلکہ نتائج سے بنتی ہے۔ اگر یہ 14 نکات 60 دنوں کے بعد ایک مستقل امن معاہدہ بن جاتے ہیں تو انہیں اکیسویں صدی کی اہم ترین سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ معاہدہ پچھلے معاہدوں کی طرح سیاسی اختلافات، عدم اعتماد اور علاقائی دشمنی کی نذر ہو گیا تو یہ 14 نکات صرف ایک اور نامکمل خواب ثابت ہوں گے۔
    یہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، عالمی معیشت اور بین الاقوامی طاقت کے توازن کا ایک نیا مسودہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے 60 دن اس مسودے کو تاریخ بنا دیتے ہیں یا صرف ایک اور خبر۔

    Related Posts

    DNA: زندگی کی کتاب

    کارو درہ: لاشوں کی بے حرمتی

    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی خاموشی نہیں، تحفظ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے

    مقبول خبریں

      عوام کو بڑی راحت دینے کا فیصلہ، ’وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم‘ کا باقاعدہ آغاز 16 ستمبر سے ہوگا

     بی جے پی کو اسمبلی اجلاس کی مدت پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

    بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے: یو سی سی پر اسد الدین اویسی کا شدید ردِعمل

      کنگن پور: ایمبولینس اور لوڈر رکشے میں خوفناک تصادم، ڈرائیور اور بزرگ خاتون جاں بحق

     عوام پر ایک اور مہنگائی کا بم گرانے کی تیاری، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    بلاگ

    DNA: زندگی کی کتاب

    کارو درہ: لاشوں کی بے حرمتی

    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی خاموشی نہیں، تحفظ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے

    ”کیا پنجاب کو پہلی بار خاتون چیف سیکرٹری ملنے جا رہی ہے،آئی جی کون؟“

    سی سی پی او پشاور میاں سعید اور جنسی تشدد میں ملوث ملزمان کی ہلاکت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.