لاہور:لاہور میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ گینگ ریپ اور اسقاطِ حمل کے بعد پراسرار موت کا کیس ایک نیا موڑ اختیار کر گیا ہے۔ پولیس نے لڑکی کی ہلاکت کے بعد اس مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر لی ہیں اور کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے لے کر لاہور انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
متاثرہ لڑکی عائشہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ریکارڈ کرائی گئی ایک ویڈیو اور پولیس کو دی گئی ابتدائی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ وہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں بطور ملازمہ کام کرتی تھی۔ وہاں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور نے مبینہ طور پر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ لڑکی کا دعویٰ تھا کہ جب اسے حمل کا علم ہوا تو مالکان نے اسے ڈرا دھمکا کر ایک نجی کلینک منتقل کیا جہاں اسقاطِ حمل کے دوران اسے طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا، جو بالآخر اس کی موت کا سبب بنیں۔
The case involving the alleged rape and subsequent death of a domestic worker during an abortion procedure has been declared a high-profile case by the Punjab prosecution authorities. https://t.co/5Uv1sVq5DE
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) June 4, 2026
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب متاثرہ لڑکی نے دورانِ تفتیش اور عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان دیتے ہوئے مکان مالک کے بیٹے کو مبینہ ریپ کے الزام سے مبرا قرار دے دیا، جس کے بعد عدالت نے اس کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ تاہم اب لڑکی کے والد نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بیٹی نے یہ بیان ملزمان کے شدید دباؤ اور دھمکیوں کے زیرِ اثر دیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کی ہلاکت کے بعد اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ پولیس نے کیس میں قتل کی دفعات کا اضافہ کرتے ہوئے उन تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں ابتدائی تحقیقات میں کلیئر قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت سے رجوع کیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو دوبارہ تفتیش کے عمل میں لایا جا سکے، جبکہ لڑکی کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔
مقتولہ کے والد جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی بیٹی کو انصاف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید دکھ کا اظہار کیا کہ ایک معصوم بچی جو گھر کی کفالت کے لیے لاہور گئی تھی، وہ ظلم کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور دباؤ ڈال کر بیان تبدیل کروانے والے عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب نامزد ملزمان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور معاملے کا قانونی جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جب انہیں تفتیش کے لیے طلب کیا جائے گا تو وہ پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں گے۔
شہری حلقوں میں یہ کیس نہ صرف خواتین کے تحفظ پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ طاقتور افراد کس طرح کمزور طبقے پر دباؤ ڈال کر عدالتی کارروائیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب تمام تر نگاہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور نئی تفتیش کے نتائج پر مرکوز ہیں۔

