تحریرڈاکٹرمحمددائود
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کسی بھی انفیکشن سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹے طبی دعوے چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ان کی تردید اور درست معلومات پہنچانے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ اس عدم توازن نے اکیسویں صدی کے صحتِ عامہ کے بڑے مسائل میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے صحت سے متعلق ہنگامی حالات کے دوران پھیلنے والی غلط اور گمراہ کن معلومات کے سیلاب کو "انفوڈیمک” (Infodemic) کا نام دیا ہے۔ پاکستان کو بھی نہ صرف وبائی امراض کے دوران بلکہ روزمرہ طبی معاملات میں اس انفوڈیمک کا مسلسل سامنا ہے۔
ماضی کے برعکس، اب لوگ سب سے پہلے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے بلکہ ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز کا رخ کرتے ہیں، جہاں خود ساختہ "طبی ماہرین” معجزاتی علاج، سازشی نظریات اور بعض اوقات خطرناک مشورے پیش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان پلیٹ فارمز پر سائنسی شواہد کے مقابلے میں مقبولیت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یوں طبی تعلیم سے محروم کوئی بھی بااثر شخصیت لاکھوں افراد تک رسائی حاصل کر لیتی ہے، جبکہ مستند ڈاکٹروں کی شواہد پر مبنی معلومات اتنی توجہ حاصل نہیں کر پاتیں۔
کووڈ-19 کی وبا نے طبی غلط معلومات کے تباہ کن اثرات کو پوری دنیا کے سامنے آشکار کیا۔ گرم پانی پینا، لہسن کھانا، بھاپ لینا، وٹامنز کی غیر معمولی مقدار استعمال کرنا، یا حتیٰ کہ صنعتی کیمیکلز پینا جیسے جھوٹے دعوے کووڈ-19 سے بچاؤ یا علاج کے طور پر پھیلائے گئے۔ متعدد ممالک میں لوگوں نے آن لائن غلط معلومات پر یقین کرتے ہوئے میتھانول پی لیا، جس کے نتیجے میں اندھے پن اور اموات کے واقعات پیش آئے۔ اسی طرح بانجھ پن، ڈی این اے میں تبدیلی یا جسم میں مائیکروچپس نصب کیے جانے جیسے بے بنیاد دعوؤں کے باعث بہت سے افراد نے ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ویکسینیشن مہمیں متاثر ہوئیں اور ایسی بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہوا جن سے بچا جا سکتا تھا۔
پاکستان بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں عام ہو گئیں کہ کووڈ-19 ویکسین میں ٹریکنگ ڈیوائسز موجود ہیں، یہ بانجھ پن کا سبب بنتی ہے یا کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو اکثر ایسے مریضوں کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اس وقت تک ویکسین نہیں لگوائی جب تک ان کے خاندان کا کوئی فرد شدید بیمار نہیں ہو گیا۔ برسوں گزرنے کے باوجود، ان غلط فہمیوں کے اثرات آج بھی بعض کمیونٹیز میں ویکسین قبول کرنے کے رجحان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
طبی غلط معلومات صرف متعدی بیماریوں تک محدود نہیں۔ کینسر کے مریضوں کو اکثر ایسے اشتہارات کا نشانہ بنایا جاتا ہے جن میں جڑی بوٹیوں، الکلائن غذا، کلونجی کے تیل، اونٹ کے دودھ یا مہنگے درآمدی سپلیمنٹس کے ذریعے "سو فیصد قدرتی علاج” کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اپنے پیاروں کو بچانے کی امید میں خاندان کیموتھراپی ترک کرکے ان غیر ثابت شدہ طریقۂ علاج کو اختیار کر لیتے ہیں۔ جب تک وہ مستند آنکولوجسٹ سے رجوع کرتے ہیں، بیماری علاج کی مؤثر حد سے آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔
ذیابیطس بھی غلط معلومات کا ایک بڑا شکار ہے۔ ہر ہفتے سوشل میڈیا پر ایسے "خفیہ جڑی بوٹیوں کے نسخے” سامنے آتے ہیں جو چند دنوں میں ذیابیطس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن سائنسی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایسا کوئی معروف جڑی بوٹیوں پر مبنی علاج موجود نہیں جو اس بیماری کو مستقل طور پر ختم کر دے، البتہ بعض مریضوں میں طرزِ زندگی میں بڑی تبدیلی اور وزن میں کمی کے ذریعے ٹائپ ٹو ذیابیطس کو عارضی طور پر کنٹرول یا ری میشن میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں پاکستانی جعلی مریضوں کی فرضی گواہیوں پر یقین کرتے ہوئے غیر مؤثر مصنوعات پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔
موٹاپے سے متعلق صنعت بھی ایک تشویشناک مثال ہے۔ سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد ممکنہ مضر اثرات یا سائنسی شواہد کی عدم موجودگی کا ذکر کیے بغیر ڈیٹاکس چائے، سلمنگ انجیکشن، چربی گھلانے والے مشروبات اور فوری وزن کم کرنے والے پاؤڈرز کی تشہیر کرتے ہیں۔ ان میں سے متعدد مصنوعات نہ تو متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے منظور شدہ ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کی سخت طبی جانچ کی گئی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنسی صلاحیت، زرخیزی، بالوں کی دوبارہ افزائش اور بڑھتی عمر کے اثرات کم کرنے والی مصنوعات کے بارے میں بھی گمراہ کن دعوے کیے جاتے ہیں۔
اینٹی بائیوٹکس کا غلط استعمال طبی غلط معلومات کے سب سے خطرناک نتائج میں سے ایک ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر ایسی پوسٹس گردش کرتی ہیں جن میں فلو یا عام نزلہ زکام جیسے وائرل انفیکشن کے لیے بھی اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس قسم کا غیر ضروری استعمال اینٹی مائیکروبیل مزاحمت (AMR) کو جنم دیتا ہے، جسے عالمی ادارۂ صحت صحتِ عامہ کے لیے دنیا کے بڑے خطرات میں شمار کرتا ہے۔ ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا پہلے ہی دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے رہے ہیں، اور اندازوں کے مطابق مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دہائیوں میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے، جہاں اینٹی بائیوٹکس اکثر مؤثر نسخہ جاتی نگرانی کے بغیر دستیاب ہوتی ہیں۔
بچے بھی انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات سے محفوظ نہیں۔ والدین اکثر ایسی ویڈیوز دیکھتے ہیں جن میں ویکسین کو غلط طور پر آٹزم یا نشوونما کے مسائل سے جوڑا جاتا ہے اور حفاظتی ٹیکوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ دعوے 1998ء میں شائع ہونے والی ایک جعلی تحقیق پر مبنی تھے، جسے بعد میں مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا اور اس کے مصنف کا طبی لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے باوجود، ویکسین اور آٹزم کے درمیان تعلق کا یہ بے بنیاد دعویٰ آج بھی دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، جس کے نتیجے میں حفاظتی ٹیکوں کی شرح متاثر ہو رہی ہے اور خسرہ جیسی قابلِ تدارک بیماریاں دوبارہ سر اٹھا رہی ہیں۔
ذہنی صحت بھی غلط معلومات کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ افسردگی، اضطراب اور توجہ کی کمی جیسے مسائل کے بارے میں سوشل میڈیا پر موجود بہت سے افراد ایک ہی قسم کا حل پیش کرتے ہیں، مثلاً حوصلہ افزا تقاریر، غذائی سپلیمنٹس یا غیر ثابت شدہ علاج۔ اگرچہ صحت مند طرزِ زندگی اور جذباتی تعاون اہم ہیں، لیکن سنگین نفسیاتی بیماریوں کی درست تشخیص اور شواہد پر مبنی علاج صرف مستند ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ تشخیص میں تاخیر کے نتائج نہایت افسوسناک ہو سکتے ہیں، جن میں خودکشی جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے صحت کے نظام میں بعض ایسی کمزوریاں موجود ہیں جو غلط معلومات کے پھیلاؤ کو مزید بڑھاتی ہیں۔ صحت سے متعلق محدود آگاہی، سرکاری اسپتالوں پر زیادہ بوجھ، مستند ڈاکٹروں تک غیر مساوی رسائی، انٹرنیٹ کا وسیع استعمال اور نسبتاً کم ڈیجیٹل خواندگی، یہ سب عوامل غلط معلومات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سوشل میڈیا صحت سے متعلق معلومات کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
غلط معلومات کے پھیلاؤ کے پیچھے مالی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد وائرل مواد سے اشتہارات کی آمدنی حاصل کرتے ہیں، جبکہ جڑی بوٹیوں کے علاج، سپلیمنٹس اور نام نہاد "معجزاتی” آلات فروخت کرنے والے عوام کے خوف اور امید سے فائدہ اٹھا کر بھاری منافع کماتے ہیں۔ اسی لیے جذباتی کہانیاں اکثر سائنسی شواہد پر مبنی معلومات سے زیادہ توجہ حاصل کر لیتی ہیں، کیونکہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز درستگی کے بجائے صارف کی دلچسپی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان غلط معلومات کے اثرات صرف انفرادی مریضوں تک محدود نہیں رہتے۔ ویکسین سے انکار اجتماعی قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا ہے، تشخیص میں تاخیر علاج کے اخراجات بڑھا دیتی ہے، خود علاجی ادویات کے خلاف مزاحمت کو فروغ دیتی ہے، غیر ثابت شدہ کینسر کے علاج بقا کی شرح کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ جھوٹی معلومات کے باعث ایمرجنسی شعبوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یوں یہ مسئلہ پہلے ہی دباؤ کا شکار صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال دیتا ہے۔
بعض ممالک نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ سنگاپور نے کووڈ-19 کے دوران جعلی طبی دعوؤں کی فوری تردید کے لیے باضابطہ حقائق جانچنے کا نظام قائم کیا، جبکہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے قابلِ فہم اور شواہد پر مبنی طبی معلومات عام کرنے کے لیے اپنی ڈیجیٹل حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنایا۔ عالمی ادارۂ صحت نے گوگل، یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مستند طبی معلومات کو نمایاں کرنے اور گمراہ کن مواد کی رسائی کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے۔
پاکستان بھی ان تجربات سے سیکھ سکتا ہے۔ سب سے پہلے، سرکاری اداروں کو اردو اور علاقائی زبانوں میں واضح اور مستند طبی معلومات پر مبنی ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مضبوط بنانا چاہیے۔ دوسرا، طبی کونسلوں اور پیشہ ورانہ تنظیموں کو ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ مستند آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز پر عوام کی رہنمائی کریں۔ تیسرا، اسکولوں کے نصاب میں ڈیجیٹل صحت کی خواندگی شامل کی جائے تاکہ طلبہ درست اور غلط طبی معلومات میں فرق کرنا سیکھ سکیں۔ چوتھا، ریگولیٹری اداروں کو غیر لائسنس یافتہ طبی مصنوعات اور گمراہ کن اشتہارات کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔ آخر میں، پاکستان میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مقامی صحتِ عامہ کے اداروں کے ساتھ مل کر نقصان دہ طبی غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
شہریوں پر بھی ذاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود کسی بھی طبی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے انہیں چند بنیادی سوالات ضرور پوچھنے چاہئیں: یہ معلومات کون فراہم کر رہا ہے؟ کیا اس کے پاس متعلقہ طبی قابلیت موجود ہے؟ کیا اس دعوے کی تائید سائنسی شواہد سے ہوتی ہے؟ کیا عالمی ادارۂ صحت یا قومی صحت کے مستند ادارے اس کی حمایت کرتے ہیں؟ اگر ان سوالات کے جوابات واضح نہ ہوں تو کسی رجسٹرڈ ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر سے مشورہ کرنا ہی محفوظ راستہ ہے۔
طبی غلط معلومات محض ایک پریشانی نہیں بلکہ صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جو جانیں ضائع کرتا ہے، وسائل برباد کرتا ہے اور سائنس پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ ایسے دور میں جب ایک موبائل فون لمحوں میں زندگی بچانے والی معلومات بھی پہنچا سکتا ہے اور خطرناک غلط معلومات بھی، ہمارا مؤثر ترین دفاع سنسرشپ نہیں بلکہ تعلیم، تنقیدی سوچ اور شواہد پر مبنی طب ہے۔
بیماریوں کے خلاف جنگ اسی وقت جیتی جا سکتی ہے جب ہم غلط معلومات کے خلاف جنگ بھی جیت لیں۔


