تحریرحاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

کہا جاتا ہے کہ پاکستان مملکت خدا داد قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ، اللہ تعالی! کے رازوں میں سے ایک راز اور اسلام کے نام پر بننے والا دنیا میں پہلا اسلامی و جمہوری و فلاحی ملک ہے جس کی اپنی حریت و آزادی کی الگ سے ایک داستان ہے۔ اسکے معرض وجود میں آنے کا ایک بڑا استدلال اور سبب میرے ذہن میں یہ تھا کہ میرے اس ملک کے باسی اور باشندے باہم اتحاد و اتفاق، محبت و الفت،رواداری و ہم آہنگی اور اسلام کے زریں اور تابناک اصولوں والی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر اور ایک باوقار اور باشعور قوم بن کر اقوام عالم کی برادری میں ایک قائدانہ و رہبرانہ کردار ادا کریں گے۔اس خاطر میری قوم خود دار چیونٹیوں کی طرح مستقل مزاج اور باکردار ہوتی۔وہ پاکستان کے اونچے اونچے اور فلک بوس پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانوں میں اپنے زور بازو سے قیمتی ترین دھاتیں سونا چاندی تانبا اور فولاد جیسی معدنیات نکالتی۔ دنیا میں موجود سارے کا سارا علمی خزانہ جو کہ دراصل اسکے اپنے اسلاف و اکابر ہی کی امانت تھا اسے حاصل کرکے اور اس پہ مزید تحقیق و تفتیش کرکے اسے اپنی آنیوالی نسلوں کو منتقل کرتے۔ میرے اس ملک میں کارخانہ جات۔ہنر سکھانے والے اور پولی ٹیکنیک کی تعلیم پر مبنی تعلینی ادارے ہوتے جو قوم کے نونہالوں اور نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کرتے۔ سائنسی لیبارٹریز کا ایک وسیع تر جال اور نیٹ ورک بچھا ہوا ہوتا جہاں ہر وقت اور ہر آن تحقیق و تدریس کا کام کیا جاتا اور ریسرچ کے ذریعے نئے نئے نکتہ ہاۓ نظر اور گوشے وا ہوتے۔ ملک میں اقرباء پروری۔ کرپشن و بد دیانتی، رشوت ستانی و سفارش اور دوسری سماجی برائیوں کے خلاف سخت ترین میرٹ پر مبنی مانیٹرنگ کا ایک نظام ہوتا جس میں حقدار کو اسکا حق اسے بن مانگے اسکے ڈور اسٹیپ پر ملتا اور محنت کرنیوالے کو اسکی محنت کا صلہ اسے مانگے اور طلب کئے بغیر دیا جاتا۔ ایک ایسا غیر متزلزل اور پائیدار جمہوری نظام ہوتا جو اپنے شہریوں کو انکی جائز اور مبنی بر حقیقت شخصی آزادیاں دیتا۔انکے بنیادی حقوق جیسے تعلیم، علاج اور روزگار کی سہولیات دیتا۔ایک ایسا جمیہوری نظام جو مملکت کے ہر شہری کو زندگی بسر کرنے کیلئے درکار سہولیات بالکل مفت یا پھر ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا۔ایک ایسا صاف و شفاف جمہوری نظام جو اسلامی تشخص کی مضبوطی، پارلیمنٹ کی سپرمیسی اورعوامی حاکمیت کا داعی اور عوام کے حقوق کا محافظ ہوتا۔ایک ایسا نظام جس میں شاہ و گدا اور اشرافیہ و عام آدمی کی تفریق نہ ہوتی۔ایک ایسا جمہوری نظام جس میں ہر ایک کو اسکی اہلیت و لیاقت کی بناء اسکا جائز حق ملتا۔ایک ایسا جمہوری نظام جو اپنے ملک کے ہر شہری کو صاف و شفاف، سستا اور نظر آنیوالا انصاف فراہم کرتا۔ایک ایسا جمہوری نظام جو قومی و ملکی ترقی کیلئے ایک راہ عمل متعین کرتا اور پھر اس پہ چل کر ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہوں پہ گامزن کرتا۔
لیکن بدقسمتی سے میرے تو سارے کے سارے خواب کچھ اس طرح چکنا چور ہوۓ کہ اسکے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے اور میں کف افسوس ملتا رہ گیا یہ سوچ کر کہ :-
"بن جاۓ نشیمن تو کوئی آگ لگا دے”
قارئین یہی وہ وطن تھا جس سے محبت کرنا ہم اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔جی ہاں۔! یہی وہ ملک ہے جس کے حصول کیلئے ہر پیر و جواں کی طرف سے جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے۔ لاکھوں شہیدوں کے خون سے اسکی بنیادیں بنائی گئیں۔ یہی وہ ملک ہے جسے بنانے کی خاطر ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی عصمتوں کے نذرانے پیش کئے۔ یہی وہ ملک ہے جس کی خاطر نھنھے نھنھے بچوں نے اپنی جانوں کو قربان کر دیا۔ یہی وہ ملک ہے جس کی خاطر ماؤں نے اپنے لخت جگر اور شیر خوار بچوں کو شہید کروا دیا۔جی ہاں۔! یہی وہ ملک ہے جس کی خاطر سہاگنوں نے اپنے سہاگ قربان کر دیئے ہوں۔
مگر آج اس ملک کی کیا حالت بنا دی گئی ہے۔ہر طرف افراتفری، ہر طرف اقرباء پروری، ہر طرف مفاد پرستی، ہر طرف کرپشن و بدعنوانی، ہر طرف قتل و غارت گری اور دہشت گردی۔یہ سب کیا ہے۔؟ یہ ملک کیساتھ کوئی وفاداری تو نہیں ہے۔ وطن سے وفاداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اختلافِ رائے کے باوجود ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کو نقصان نہ پہنچائیں۔کسی غیر ملک سے محبت کی بنیاد پر اپنے ملک کا نقصان نہ کریں۔ تنقید ضرور کریں مگر یہ تنقید تعمیری و اصلاحی انداز میں کریں۔ اپنی آواز بلند کریں مگر اس حد تک کہ قومی وحدت متاثر نہ ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وطن ہم سے ہے اور ہم وطن سے ہیں۔اگر ہم اپنے ملک کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ہمیں اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایک استاد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے، ایک ڈاکٹر مریض کو دیانت داری سے دیکھے، ایک تاجر انصاف سے کاروبار کرے اور ایک عام شہری قانون کی پابندی کرے تو یہی اصل میں حب الوطنی ہے۔

