Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایپل کا نیا ’آئی فون 18 پرو‘؛ کیا کیا شاندار اے آئی فیچرز اور خصوصیات ہیں ، جانئے!

      استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور پانچ سالہ پابندی ختم

      ’’ اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس ’’ٹرمپ نے نئے ’’ایئر فورس ون‘‘ کی رونمائی کردی،

      1000 سال پرانا دیو ہیکل ‘میجر اوک’ درخت ہمیشہ کے لیے خاموش؛ شیئر ووڈ فاریسٹ کا قدیم ترین ورثہ ختم!

      ٹائیٹن آبدوز حادثے کی تین سال بعد تحقیقاتی رپورٹ جاری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اور :-یہ ملک پاکستان۔۔۔میری امنگوں کا ترجمان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرحاجی فضل محمود انجم

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان مملکت خدا داد قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ، اللہ تعالی! کے رازوں میں سے ایک راز اور اسلام کے نام پر بننے والا دنیا میں پہلا اسلامی و جمہوری و فلاحی ملک ہے جس کی اپنی حریت و آزادی کی الگ سے ایک داستان ہے۔ اسکے معرض وجود میں آنے کا ایک بڑا استدلال اور سبب میرے ذہن میں یہ تھا کہ میرے اس ملک کے باسی اور باشندے باہم اتحاد و اتفاق، محبت و الفت،رواداری و ہم آہنگی اور اسلام کے زریں اور تابناک اصولوں والی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر اور ایک باوقار اور باشعور قوم بن کر اقوام عالم کی برادری میں ایک قائدانہ و رہبرانہ کردار ادا کریں گے۔اس خاطر میری قوم خود دار چیونٹیوں کی طرح مستقل مزاج اور باکردار ہوتی۔وہ پاکستان کے اونچے اونچے اور فلک بوس پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانوں میں اپنے زور بازو سے قیمتی ترین دھاتیں سونا چاندی تانبا اور فولاد جیسی معدنیات نکالتی۔ دنیا میں موجود سارے کا سارا علمی خزانہ جو کہ دراصل اسکے اپنے اسلاف و اکابر ہی کی امانت تھا اسے حاصل کرکے اور اس پہ مزید تحقیق و تفتیش کرکے اسے اپنی آنیوالی نسلوں کو منتقل کرتے۔ میرے اس ملک میں کارخانہ جات۔ہنر سکھانے والے اور پولی ٹیکنیک کی تعلیم پر مبنی تعلینی ادارے ہوتے جو قوم کے نونہالوں اور نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کرتے۔ سائنسی لیبارٹریز کا ایک وسیع تر جال اور نیٹ ورک بچھا ہوا ہوتا جہاں ہر وقت اور ہر آن تحقیق و تدریس کا کام کیا جاتا اور ریسرچ کے ذریعے نئے نئے نکتہ ہاۓ نظر اور گوشے وا ہوتے۔ ملک میں اقرباء پروری۔ کرپشن و بد دیانتی، رشوت ستانی و سفارش اور دوسری سماجی برائیوں کے خلاف سخت ترین میرٹ پر مبنی مانیٹرنگ کا ایک نظام ہوتا جس میں حقدار کو اسکا حق اسے بن مانگے اسکے ڈور اسٹیپ پر ملتا اور محنت کرنیوالے کو اسکی محنت کا صلہ اسے مانگے اور طلب کئے بغیر دیا جاتا۔ ایک ایسا غیر متزلزل اور پائیدار جمہوری نظام ہوتا جو اپنے شہریوں کو انکی جائز اور مبنی بر حقیقت شخصی آزادیاں دیتا۔انکے بنیادی حقوق جیسے تعلیم، علاج اور روزگار کی سہولیات دیتا۔ایک ایسا جمیہوری نظام جو مملکت کے ہر شہری کو زندگی بسر کرنے کیلئے درکار سہولیات بالکل مفت یا پھر ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا۔ایک ایسا صاف و شفاف جمہوری نظام جو اسلامی تشخص کی مضبوطی، پارلیمنٹ کی سپرمیسی اورعوامی حاکمیت کا داعی اور عوام کے حقوق کا محافظ ہوتا۔ایک ایسا نظام جس میں شاہ و گدا اور اشرافیہ و عام آدمی کی تفریق نہ ہوتی۔ایک ایسا جمہوری نظام جس میں ہر ایک کو اسکی اہلیت و لیاقت کی بناء اسکا جائز حق ملتا۔ایک ایسا جمہوری نظام جو اپنے ملک کے ہر شہری کو صاف و شفاف، سستا اور نظر آنیوالا انصاف فراہم کرتا۔ایک ایسا جمہوری نظام جو قومی و ملکی ترقی کیلئے ایک راہ عمل متعین کرتا اور پھر اس پہ چل کر ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہوں پہ گامزن کرتا۔
    لیکن بدقسمتی سے میرے تو سارے کے سارے خواب کچھ اس طرح چکنا چور ہوۓ کہ اسکے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے اور میں کف افسوس ملتا رہ گیا یہ سوچ کر کہ :-
    "بن جاۓ نشیمن تو کوئی آگ لگا دے”
    قارئین یہی وہ وطن تھا جس سے محبت کرنا ہم اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔جی ہاں۔! یہی وہ ملک ہے جس کے حصول کیلئے ہر پیر و جواں کی طرف سے جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے۔  لاکھوں شہیدوں کے خون سے اسکی بنیادیں بنائی گئیں۔ یہی وہ ملک ہے جسے بنانے کی خاطر ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی عصمتوں کے نذرانے پیش کئے۔ یہی وہ ملک ہے جس کی خاطر نھنھے نھنھے بچوں نے اپنی جانوں کو قربان کر دیا۔ یہی وہ ملک ہے جس کی خاطر ماؤں نے اپنے لخت جگر اور شیر خوار بچوں کو شہید کروا دیا۔جی ہاں۔! یہی وہ ملک ہے جس کی خاطر سہاگنوں نے اپنے سہاگ قربان کر دیئے ہوں۔
    مگر آج اس ملک کی کیا حالت بنا دی گئی ہے۔ہر طرف افراتفری، ہر طرف اقرباء پروری، ہر طرف مفاد پرستی، ہر طرف کرپشن و بدعنوانی، ہر طرف قتل و غارت گری اور دہشت گردی۔یہ سب کیا ہے۔؟ یہ ملک کیساتھ کوئی وفاداری تو نہیں ہے۔ وطن سے وفاداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اختلافِ رائے کے باوجود ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کو نقصان نہ پہنچائیں۔کسی غیر ملک سے محبت کی بنیاد پر اپنے ملک کا نقصان نہ کریں۔ تنقید ضرور کریں مگر یہ تنقید تعمیری و اصلاحی انداز میں کریں۔ اپنی آواز بلند کریں مگر اس حد تک کہ قومی وحدت متاثر نہ ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وطن ہم سے ہے اور ہم وطن سے ہیں۔اگر ہم اپنے ملک کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ہمیں اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایک استاد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے، ایک ڈاکٹر مریض کو دیانت داری سے دیکھے، ایک تاجر انصاف سے کاروبار کرے اور ایک عام شہری قانون کی پابندی کرے تو یہی اصل میں حب الوطنی ہے۔

    Related Posts

    سوشل میڈیا کا زہر: طبی غلط معلومات کی خاموش وبا

    وردی، سفارش اور انصاف کی جنگ، ،ڈی پی او قصور نے سیاسی دباؤ کے تاثر کو کیسے دفن کیا؟

    جنگ کسی نے لڑی، امن کسی نے کرایا، مگر سب سے زیادہ کمائی چین کرے گا؟

    مقبول خبریں

    سوئٹرزلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران امریکا مذاکرات کی تصویری جھلکیاں

    پولیس مقابلے کے بعد دو خطرناک ملزم زخمی حالت میں گرفتار

    جنوبی افریقہ نے بھارت کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی، ماریزان کیپ کی شاندار نصف سنچری اننگز

    فرار ہوتے موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اپناہی ساتھی ہلاک

    امریکا،ایران مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت، فریقین کا 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق، تنازعات کم کرنیوالا سیل بنے گا

    بلاگ

    اور :-یہ ملک پاکستان۔۔۔میری امنگوں کا ترجمان

    سوشل میڈیا کا زہر: طبی غلط معلومات کی خاموش وبا

    وردی، سفارش اور انصاف کی جنگ، ،ڈی پی او قصور نے سیاسی دباؤ کے تاثر کو کیسے دفن کیا؟

    جنگ کسی نے لڑی، امن کسی نے کرایا، مگر سب سے زیادہ کمائی چین کرے گا؟

    چودہ نکاتی معاہدہ: امن کی دستاویز یا طاقت کی نئی تقسیم؟امریکہ اور ایران معاہدے کا جائزہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.