تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد صرف عدالتوں پر نہیں بلکہ اس پورے نظام پر ہوتی ہے جو ایک مظلوم کو حق دلانے اور طاقتور کو قانون کے تابع رکھنے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ کھڈیاں، قصور میں اقدام قتل کے ایک مقدمے نے ثابت کر دیا ہے کہ آیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا پھر سیاسی اثر و رسوخ انصاف کا راستہ بدل سکتا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایک شہری محمد عرفان نے ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کی کھلی کچہری میں شکایت کی کہ اس کے بیٹے پر فائرنگ کرنے والے نامزد ملزمان کو پہلے گنہگار قرار دیا گیا، لیکن بعد میں دو ملزمان کو بے گناہ لکھ دیا گیا۔ اگر ایک عام شہری کی فریاد پر پردہ ڈال دیا جاتا تو شاید یہ معاملہ بھی ماضی کی دیگر کئی فائلوں کی طرح خاموشی سے دفن ہو جاتا، لیکن ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا اور ابتدائی تحقیقات میں شکایت درست ثابت ہوئی۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ انکوائری کے بعد ایس ایچ او کھڈیاں طیب یوسف اور تفتیشی سب انسپکٹر نوید کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ ڈی ایس پی سٹی سیف اللہ بھٹی سے جواب طلبی اور ان کے خلاف سرنڈر کی سفارش بھی سامنے آئی۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مقدمے کی تفتیش ایک بورڈ کے ذریعے ڈی ایس پی پتوکی ملک ناصر کے سپرد کر دی گئی، جنہیں محکمہ پولیس میں دیانت، شائستگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی وجہ سے ایک معتبر نام سمجھا جاتا ہے۔اس سارے معاملے میں بعض حلقوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کے پیچھے سپیکر پنجاب اسمبلی کی سفارش کارفرما تھی، اور یوں قصور کے ڈی پی او اور پنجاب اسمبلی کی ایک اہم شخصیت کو آمنے سامنے لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اگر حقائق کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈی پی او قصور نے نہ صرف اس تاثر کو زائل کیا بلکہ واضح پیغام دیا کہ ان کی اولین ترجیح قانون کی بالادستی اور شفاف تفتیش ہے، نہ کہ کسی سیاسی دباؤ کے آگے سر تسلیم خم کرنا۔یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ پنجاب اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران جب اس مقدمے کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تو ڈی پی او نے بتایا کہ
تفتیش پہلے ہی تبدیل کی جا چکی ہے، جس پر کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتساب اور اصلاح کا عمل جاری رہنا چاہیے۔یہ معاملہ چند افسروں کی معطلی یا تبادلوں کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو سیاسی شخصیات کے ڈیرے کو انصاف کے فیصلوں کا مرکز سمجھتی ہے۔ اگر پولیس افسران قانون کے بجائے بااثر افراد کی خواہشات کے تابع ہو جائیں تو پھر مظلوم کے لیے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور انصاف صرف طاقتور کا حق بن کر رہ جاتا ہے۔ڈی پی او قصور کی کارروائی اس لحاظ سے ایک مثبت مثال ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت افسران کے خلاف بھی کارروائی سے گریز نہیں کیا۔ یہ پیغام صرف قصور کے لیے نہیں بلکہ پورے پنجاب کے لیے اہم ہے کہ پولیس کی وردی عوام کے تحفظ کے لیے ہے، کسی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں۔قانون کی عزت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب انصاف کے ترازو میں نہ سفارش کا وزن ہو، نہ تعلقات کا، بلکہ صرف حق اور سچ کی بنیاد پر فیصلے ہوں۔ کیونکہ جب ادارے خود اپنا احتساب کرتے ہیں تو عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے، اور یہی اعتماد کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔
وردی، سفارش اور انصاف کی جنگ، ،ڈی پی او قصور نے سیاسی دباؤ کے تاثر کو کیسے دفن کیا؟


