صوابی( حق نواز خان سے)
فریڈرک ایبرٹ اسٹیفٹنگ پاکستان کے پروگرام ایڈوائزر عبداللہ دایو کی نگرانی میں نوجوان محنت کشوں کی قیادت،مزدور حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے فروغ کیلئے منعقد کی جانے والی پانچ روزہ چوتھی پاکستان لیبر اکیڈمی تربیت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ٹریڈ یونین رہنماں،محنت کشوں کے نمائندوں،صحافیوں،وکلا،سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔اکیڈمی کا مقصد نوجوان ورکرز کو مزدور حقوق،انسانی حقوق،صنعتی تعلقات،ٹریڈ یونین سازی اور سماجی انصاف کے اصولوں سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں عملی تربیت فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں مثر قیادت کا کردار ادا کرسکیں۔پروگرام کے دوران مختلف ماہرین نے لیکچرز،گروپ ورک،کیس اسٹڈیز،پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز اور کھلی مباحثوں کے ذریعے شرکا کی تربیت کی۔تربیتی نشستوں کے دوران سندھ انسانی حقوق کمیشن کے سابق چیئرمین اقبال احمد ڈیتھو نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور مزدور تحریک کے تاریخی پس منظر پر تفصیلی گفتگو کی۔ٹریڈ یونین تعلیم اور اجتماعی سودے بازی پر تربیت کار اسد محمود نے شرکا کو مذاکراتی مہارتوں، یونین سازی،ہڑتال کے قانونی طریقہ کار اور تنظیمی امور سے متعلق عملی تربیت فراہم کی۔پاکستان میں صنعتی تعلقات اور لیبر عدلیہ کے موضوع پر جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالرسول میمن نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے محنت کش عدالتوں،قومی صنعتی تعلقات کمیشن اور صنعتی تنازعات کے حل کے نظام پر روشنی ڈالی جبکہ ڈاکٹر تیمور رحمان نے پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک کی تاریخ اور مزدور جدوجہد کے مختلف ادوار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ایڈووکیٹ دلیپ دوشی نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اکیڈمی کے دوران شرکا کو عملی تربیت فراہم کرنے کیلئے مختلف اداروں کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے۔شرکا نے ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کے کارخانے کا دورہ کیا جہاں انہیں صنعتی ماحول،جدید پیداواری نظام،کام کی جگہ کے تحفظ،مزدور و انتظامیہ تعلقات اور یونین کے کردار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر شرکا نے کمپنی انتظامیہ اور یونین نمائندوں سے ملاقات کی اور صنعتی تنازعات کے حل، اجتماعی سودے بازی اور کارکنوں کے حقوق سے متعلق مختلف سوالات کیے۔اسی طرح شرکا کو ضلعی محنت کش عدالت کراچی کا دورہ بھی کرایا گیا جہاں شرکا کو لیبر قوانین،عدالتی کارروائی اور محنت کشوں کو انصاف کی فراہمی کے نظام کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔شرکا نے لیبر مقدمات کے طریقہ کار،صنعتی تنازعات کے حل اور عدالت کے کردار کا عملی مشاہدہ کیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سندھ کے سیکرٹری محنت ساجد جمال ابڑو نے کہا کہ نوجوان ورکرز کی تربیت اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا نہایت ضروری ہے۔تقریب کے اختتام پر تربیت مکمل کرنے والے شرکا میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ پروگرام ایڈوائزر عبداللہ دایو اور نوید احمد سومرو انچارج سندھ جوڈیشل اکیڈمی نے تمام مہمانوں،تربیت کاروں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

