برلن: جرمنی میں ایک انتہائی انوکھا اور حیرت انگیز کرائم کیس سامنے آیا ہے جہاں پولیس نے نوعمر لڑکی کو نامناسب انداز میں چھونے اور جنسی اشارے کرنے کے الزام میں ایک روبوٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین اور عام شہریوں کے لیے بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک روبوٹ نے مبینہ طور پر ایک 16 سالہ لڑکی کو نامناسب انداز میں چھوا اور اس کی طرف جنسی اشارے کیے۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے موقع سے روبوٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا، جبکہ اس کے ساتھ دو موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہیں شواہد کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کہ آیا اس روبوٹ نے کسی تکنیکی نقص یا خود مختار مصنوعی ذہانت (AI) کے تحت خود یہ قدم اٹھایا، یا پھر پردے کے پیچھے موجود کسی انسان نے اسے ریموٹ یا سافٹ ویئر کے ذریعے جان بوجھ کر اس حرکت پر مجبور کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے روبوٹکس اور اے آئی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہے ہیں، اس قسم کے قانونی اور اخلاقی سوالات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ ایسی صورت میں ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے۔ جرمن پولیس اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
جرمن پولیس کی کارروائی: 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں روبوٹ تحویل میں

