تحریر: سدیس شیخ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ان سطور کی اشاعت تک صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے تین دن مکمل ہو چکے ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے کسی قسم کا سیاسی تعلق نہیں۔ میں ایک قلم کار اور صحافی کی حیثیت سے ملکی حالات کا مشاہدہ کر رہا ہوں اور جو کچھ مجھے دکھائی دے رہا ہے، اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا اپنا صحافتی اور اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں۔
موجودہ صورتِ حال میں خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت، بالخصوص پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں اور گرفتاریوں نے کئی اہم آئینی، قانونی اور سیاسی سوالات کو جنم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سمیت اہم سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں کی اطلاعات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ جذبات کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں معاملات کا جائزہ لیا جائے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال واقعی ایسی تھی کہ غیر معمولی آئینی اقدامات ناگزیر ہو گئے تھے؟ کیا ان اقدامات کے لیے آئین میں درج تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ اور کیا سیاسی قیادت کی گرفتاریوں سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، یا اس طرزِ عمل سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے؟
یہ سوالات محض کسی سیاسی جماعت کے حق میں یا مخالفت میں نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کے مستقبل سے متعلق ہیں۔
ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی تقاضے کیا ہیں؟
پاکستان کا آئین وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات، شہریوں کے بنیادی حقوق اور غیر معمولی حالات میں اختیار کیے جانے والے اقدامات کے لیے واضح قانونی حدود متعین کرتا ہے۔
یہاں ایک اہم قانونی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ اور صوبے میں گورنر راج کا نفاذ دو الگ آئینی معاملات ہیں۔ ان کے اسباب، طریقۂ کار اور قانونی تقاضے بھی مختلف ہیں۔ محض سیاسی کشیدگی یا حکومت مخالف احتجاج کی بنیاد پر ان دونوں اقدامات کو ایک ہی مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 میں ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق شرائط بیان کی گئی ہیں، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کے ناکام ہونے کی صورت میں مخصوص اقدامات سے متعلق ہے۔ تاہم کسی خاص صورتِ حال میں ان دفعات کے اطلاق کا تعین متعلقہ حقائق، سرکاری اعلان اور آئینی تقاضوں کی جانچ کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق کسی بھی فیصلے کی آئینی بنیاد، قانونی جواز اور مقررہ طریقۂ کار کو عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔ غیر معمولی اختیارات کا استعمال غیر معمولی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
کیا سیاسی قیادت کی گرفتاریاں مسئلے کا حل ہیں؟
جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلاف ایک فطری امر ہے۔ کسی جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کی سیاسی حکمتِ عملی پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
اگر کسی سیاسی رہنما کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کے شواہد موجود ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون سے کوئی شخص بالاتر نہیں، خواہ اس کا تعلق حکومت سے ہو، حزبِ اختلاف سے یا کسی بااثر ادارے سے۔ لیکن اسی اصول کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کسی شخص کو محض سیاسی وابستگی، احتجاج کے خدشے یا مخالفانہ مؤقف کی بنیاد پر مجرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔
آئین کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10 گرفتاری اور حراست سے متعلق قانونی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 10 اے منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق انصاف کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔
اس لیے اگر کسی سیاسی رہنما کو گرفتار کیا جاتا ہے تو گرفتاری کی قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے، متعلقہ قانونی تقاضے پورے کیے جانے چاہییں اور ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع ملنا چاہیے۔
احتجاج یا لانگ مارچ کے خدشے کو بذاتِ خود ہر گرفتاری کا کافی قانونی جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی قابلِ دست اندازی جرم، تشدد یا قانون شکنی کا معاملہ ہو تو اس کا فیصلہ متعلقہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
احتجاج کا حق اور ریاست کی ذمہ داری
ہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، تشدد پھیلانے اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی حمایت نہیں کرتے۔ اسی طرح ہم ایسے کسی عمل کو بھی درست نہیں سمجھتے جو ملکی سلامتی، عوامی امن یا شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بنے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ اصول بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پُرامن سیاسی احتجاج جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے۔ آئین کا آرٹیکل 16 شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق دیتا ہے، جس پر قانون کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے، شہریوں کی حفاظت کرے اور قانون شکنی کی روک تھام کرے۔ تاہم اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ضروری ہے کہ طاقت کا استعمال قانون کے مطابق، ضرورت کے تحت اور متناسب ہو۔
اگر کوئی احتجاج پُرامن ہو تو اسے محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے جرم تصور کرنا جمہوری روایات کے منافی ہوگا۔ اس کے برعکس اگر احتجاج کے نام پر تشدد، توڑ پھوڑ یا شہریوں کو نقصان پہنچایا جائے تو قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ نہ احتجاج کرنے والوں کو قانون شکنی کی کھلی چھوٹ دی جائے اور نہ ریاستی اختیارات کو غیر ضروری سختی کے لیے استعمال کیا جائے۔
سیاسی انتقام یا قانون کی حکمرانی؟
ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو اکثر قانونی اور جمہوری دائرے میں حل کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک حکومت دوسری جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرتی ہے، پھر وقت بدلنے پر یہی طرزِ عمل کسی دوسری شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔
یہ سلسلہ نہ جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے اور نہ ہی عوام کے مسائل حل کرتا ہے۔ اس سے سیاسی عدم اعتماد، معاشرتی تقسیم اور اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی قیادت پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے، عوام کو تشدد پر نہ اکسائے، ریاستی املاک کا احترام کرے اور آئینی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ اسی طرح حکومت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کرے اور اختلافِ رائے کو ریاست کے خلاف بغاوت کے مترادف نہ سمجھے۔
قانون کا تقاضا کسی ایک فریق کو تحفظ اور دوسرے کو سزا دینا نہیں، بلکہ ہر شخص کے ساتھ یکساں قانونی اصولوں کے مطابق معاملہ کرنا ہے۔
مذاکرات کے دروازے بند کیوں کیے جائیں؟
میری ذاتی رائے میں موجودہ صورتِ حال کا سب سے بہتر حل مذاکرات ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ آخری حد تک بات چیت کے امکانات برقرار رکھیں۔
سیاسی مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی کی علامت ہیں۔ اگر اختلافات موجود ہیں تو انہیں میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اگر کسی جماعت کے مطالبات آئین اور قانون کے مطابق قابلِ غور ہیں تو ان پر بات ہونی چاہیے، اور اگر کوئی مطالبہ آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس کی نشاندہی دلیل اور قانون کے ذریعے کی جانی چاہیے۔
گرفتار سیاسی رہنماؤں کے معاملات میں بھی قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے۔ اگر کسی کی گرفتاری قانونی طور پر ضروری نہیں رہی، یا اسے حراست میں رکھنے کی قانونی بنیاد موجود نہیں، تو اسے رہا کیا جانا چاہیے۔ تاہم جہاں قانونی بنیاد موجود ہو، وہاں رہائی یا ضمانت کا فیصلہ متعلقہ قانون اور مجاز عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بامقصد مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے، جس میں سیاسی قیادت کی قانونی حیثیت، امن و امان، پُرامن احتجاج، آئینی تقاضوں اور مستقبل کے سیاسی لائحۂ عمل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین ضد، انا اور الزام تراشی کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
خیبر پختونخوا کا امن اور عوامی مفاد
خیبر پختونخوا پہلے ہی مختلف نوعیت کے امن و امان کے مسائل اور معاشی مشکلات سے دوچار رہا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ عوامی مشکلات کو بڑھا سکتا ہے۔
عوام کو روزگار، تعلیم، صحت، کاروبار اور پُرامن زندگی کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے عوامی مسائل پر توجہ دیں اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
سیاسی محاذ آرائی اگر طویل ہو جائے تو اس کے اثرات صرف سیاسی رہنماؤں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عام شہری، تاجر، طلبہ اور مزدور بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ صوبے میں امن و استحکام کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے فرائض قانون کے مطابق ادا کرنے چاہییں، سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے اور حکومت کو عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔
آخری گزارش
میں نہ سیاسی تشدد کا حامی ہوں، نہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی حمایت کرتا ہوں اور نہ ہی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم کو درست سمجھتا ہوں۔ لیکن اسی کے ساتھ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سیاسی اختلافات کا حل غیر ضروری سختی، اندھا دھند گرفتاریوں یا مخالفین کو دیوار سے لگانے میں نہیں۔
ریاست کی مضبوطی صرف طاقت کے استعمال سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل معیار انصاف، آئین کی پاسداری، قانون کی یکساں عمل داری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔
اگر پی ٹی آئی یا کسی دوسری سیاسی جماعت کا کوئی رہنما قانون شکنی کا مرتکب ہوا ہے تو اس کے خلاف شفاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اگر کسی کی گرفتاری کا مقصد محض سیاسی دباؤ ڈالنا یا احتجاج کو روکنا ہے تو ایسے طرزِ عمل پر سنجیدہ آئینی اور قانونی سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت تحمل کا مظاہرہ کرے، اپوزیشن ذمہ داری کا ثبوت دے اور دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ جہاں ممکن ہو، قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے گرفتار رہنماؤں کی رہائی یا ضمانت کے راستے اختیار کیے جائیں اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
یاد رکھیے، نفرت کے جواب میں نفرت، سختی کے جواب میں سختی اور سیاسی اختلاف کے جواب میں انتقام کا راستہ اختیار کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوتے، بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
جمہوریت کی بقا تصادم میں نہیں، مکالمے میں ہے؛ ریاست کی طاقت انتقام میں نہیں، انصاف میں ہے؛ اور قومی استحکام کا راستہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور سیاسی رواداری سے ہو کر گزرتا ہے۔


