Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایپل کا نیا ہوم پوڈ منی 2 متعارف، سری اے آئی اور جدید فیچرز شامل

      مصنوعی ذہانت امریکا میں ایک کروڑ 10 لاکھ ملازمتیں کھا جائے گی، میکنسی رپورٹ جاری

      آواز سے دوگنی رفتار والا طیارہ، سفر کا وقت 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

      زمین سے 7.5 نوری سال دور دنیا پر پانی کے بادلوں میں تبدیلی کی پہلی تصدیق

      مصنوعی ذہانت کا کمال: جیف بیزوز کی حیران کن پیشگوئی، لوگ ہفتے میں صرف 3 دن کام کرکے بھی شاندار کمائی کر سکیں گے

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    قلم کسی بھی معاشرے کی فکری تعمیر، شعوری بیداری اور مثبت تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے اہلِ قلم، دانش وروں، ادیبوں اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کی قدر کی، وہاں علم و ادب کو فروغ ملا اور معاشرتی شعور نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ ادب محض الفاظ کو ترتیب دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی احساسات کی ترجمانی، معاشرتی مسائل کی نشاندہی، مثبت اقدار کے فروغ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ اسی تناظر میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی تنظیمی سرگرمیاں، مستقبل کی منصوبہ بندی اور ملک بھر میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔
    حال ہی میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے پنجاب آفس میں صدر پنجاب زوہیب رمضان بھٹی کی میزبانی میں منعقد ہونے والا اہم اجلاس اسی سلسلے کی ایک قابلِ ذکر کڑی ہے۔ اجلاس میں تنظیم کی سالانہ تقریب کے انعقاد، مستقبل کے لائحہ عمل اور پاکستان بھر میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کے مرکزی و صوبائی عہدیداران کی شرکت اس امر کی عکاس تھی کہ اہلِ قلم کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنے اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
    اجلاس میں چیئرمین انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز زبیر احمد انصاری، مرکزی صدر ثمینہ طاہر بٹ، نائب صدر میاں محمد اصغر بھٹی، جنرل سیکرٹری طاہر تبسم درانی، نائب صدر پنجاب سجاد بھنڈر، صدر لاہور ویمن ونگ نبیلہ اکبر، صدر لاہور عاصم لطیف چوہدری اور جنرل سیکرٹری لاہور حافظ زبیر احمد نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے تنظیمی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی مشاورت، مشترکہ جدوجہد اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے گا۔
    کسی بھی ادبی تنظیم کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے نام، عہدوں یا تقریبات پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اصل پہچان ان مقاصد سے ہوتی ہے جن کے لیے وہ قائم کی گئی ہو۔ اگر کوئی تنظیم ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، صحافیوں اور دیگر تخلیقی شخصیات کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور ان کے لیے علمی و ادبی مکالمے کی راہیں ہموار کرے تو وہ معاشرے میں ایک مثبت اور دیرپا کردار ادا کر سکتی ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے دائرۂ کار کو وسعت دیتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں موجود اہلِ قلم کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنائے۔
    اجلاس میں تنظیم کی سالانہ تقریب کے انعقاد پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چیئرمین زبیر احمد انصاری نے اس حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے تقریب جلد از جلد منعقد کرنے پر زور دیا۔ ایسی تقریبات محض رسمی اجتماعات نہیں ہوتیں، بلکہ یہ اہلِ قلم کے باہمی روابط مضبوط کرنے، ان کی ادبی خدمات کو سراہنے، تجربات کے تبادلے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔ بالخصوص ایسے دور میں جب مطالعے کے رجحانات، ذرائع ابلاغ اور اظہار کے انداز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ادبی اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تخلیقی سوچ اور مثبت تحریر کو فروغ دینے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
    سالانہ تقریب کے انعقاد کے بعد پاکستان کے مختلف اضلاع میں تنظیم سازی کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ بھی اجلاس کا ایک اہم پہلو ہے۔ مرکزی صدر ثمینہ طاہر بٹ نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریب کے فوری بعد ملک کے مختلف اضلاع میں تنظیمی سرگرمیوں کو وسعت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں تنظیمی عہدوں پر ضروری ردوبدل، نئی ذمہ داریوں کی تقسیم اور ڈھانچے کو مزید فعال و مضبوط بنانے کے اقدامات بھی زیرِ غور آئیں گے۔
    حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی سطح کی تنظیم کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی سرگرمیاں صرف بڑے شہروں یا چند مخصوص حلقوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دور دراز علاقوں میں موجود اہلِ قلم کو بھی مناسب نمائندگی اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں۔ پاکستان کے مختلف اضلاع میں بے شمار ایسے ادیب، شاعر، صحافی اور کالم نگار موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود علم و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو سامنے لانا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں قومی ادبی دھارے سے منسلک کرنا کسی بھی ادبی تنظیم کی نمایاں کامیابی تصور ہو گی۔
    اسی طرح تنظیمی عہدوں پر ذمہ داریوں کی مناسب تقسیم بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ عہدہ دراصل اعزاز کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہوتا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ متعلقہ عہدیدار اپنی صلاحیتوں، وقت اور تجربے کو تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے بروئے کار لائیں۔ اگر ہر عہدیدار اپنی ذمہ داری کو دیانت داری، خلوص اور مستقل مزاجی سے ادا کرے تو تنظیمی امور میں بہتری، رابطوں میں مضبوطی اور سرگرمیوں میں تسلسل پیدا کیا جا سکتا ہے۔
    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے لیے ایک اور اہم پہلو خواتین اہلِ قلم اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ ادب کی دنیا میں خواتین نے ہمیشہ نمایاں خدمات انجام دی ہیں، جبکہ نوجوان نسل نئے خیالات، جدید رجحانات اور تخلیقی تجربات کے ذریعے ادبی منظرنامے کو وسعت دے سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام طبقات کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی صلاحیتیں سامنے آئیں اور تنظیم ایک وسیع، متحرک اور نمائندہ ادبی پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔
    عصرِ حاضر میں ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے تحریر، مطالعے اور ادبی رابطوں کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اگر انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز روایتی ادبی سرگرمیوں کے ساتھ جدید ذرائع کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کرے تو ملک کے مختلف حصوں میں موجود اہلِ قلم کے درمیان رابطوں کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔ آن لائن ادبی نشستیں، تحریری مقابلے، کتابوں پر گفتگو، نوجوان لکھنے والوں کی تربیتی سرگرمیاں اور مستحق تخلیق کاروں کی پذیرائی ایسے اقدامات ہیں جو تنظیم کے مقاصد کو عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
    یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ کسی تنظیم کی اصل مضبوطی اس کے عہدیداران کے باہمی تعاون، مشاورت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اجلاس میں تنظیم کو مزید منظم، فعال اور مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار اسی سوچ کی ترجمانی کرتا ہے۔ تاہم ان عزائم کی حقیقی کامیابی کے لیے ضروری ہو گا کہ طے شدہ فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ہو، تنظیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور مختلف اضلاع میں قائم تنظیمی رابطوں کو مسلسل فعال رکھا جائے۔
    ادب معاشرے میں برداشت، مکالمے، احترام اور فکری وسعت کو فروغ دیتا ہے۔ ایک مضبوط ادبی تنظیم ان اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے معیاری تحریر، مثبت صحافت، تحقیقی رجحانات اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے تو یہ نہ صرف اہلِ قلم کے لیے مفید ثابت ہو گا بلکہ معاشرے میں علمی و ادبی شعور کی ترقی میں بھی معاون بن سکتا ہے۔
    بلاشبہ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے پنجاب آفس میں منعقدہ یہ اجلاس تنظیم کے مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ سالانہ تقریب کے انعقاد کی تیاری، پاکستان بھر میں تنظیم سازی کو وسعت دینے کا منصوبہ اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کا عزم امید افزا اقدامات ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فیصلوں پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے اور تنظیم کو ایسی عملی سرگرمیوں سے وابستہ رکھا جائے جن کے ثمرات اہلِ قلم اور ادبی حلقوں تک واضح طور پر پہنچ سکیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ قلم کی طاقت کو منظم کرنا، اہلِ قلم کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ادب و تخلیق کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اگر اتحاد، اخلاص، میرٹ اور عملی جدوجہد کو اپنا شعار بنائے تو وہ پاکستان میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جو کسی بھی ادبی تنظیم کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ علم، شعور، تخلیق اور مثبت تبدیلی کی تحریک بنا دیتا ہے۔

    Related Posts

    آئین کی بالادستی، سیاسی رواداری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں

    حکمرانوں کیلئے ایک نہ بھولنے والا اور انمٹ سبق۔!!!

    پاکستان کا سوال: عوام کے لیے سوچنے والا مخلص قیادت کا خواب کب پورا ہوگا؟

    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور حکومت کی ممکنہ بحالی

    موسلا دھار بارش اور ژالہ باری سے سردی کی لہر دوڑ گئی

    خیبرپختونخوا کے وسائل کو نقصان پہنچانے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے گا، ثمر بلور

    کشتی الٹنے سے 14 بچے ہلاک، کئی لاپتہ

    ایئر انڈیا طیارہ ہائی جیک الرٹ: جے پور ہوائی اڈے پر ایمرجنسی نافذ، مسافروں میں افراتفری

    بلاگ

    آئین کی بالادستی، سیاسی رواداری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    حکمرانوں کیلئے ایک نہ بھولنے والا اور انمٹ سبق۔!!!

    پاکستان کا سوال: عوام کے لیے سوچنے والا مخلص قیادت کا خواب کب پورا ہوگا؟

    ریت کی دیوار پر بیٹھا پختونخوا کا اقتدار اور آرٹیکل 232 کی گونج

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.