تحریر :نفیس احمد آرائیں
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ملک کی قومی شاہراہوں اور ہائی ویز پر رات کے وقت سفر کرنا پہلے ہی غیر معمولی احتیاط کا متقاضی ہے۔ تیز رفتار ٹریفک، سڑکوں کی خستہ حالی، اندھیرے اور روشنی کے ناکافی انتظامات کے باعث ڈرائیوروں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم ان خطرات میں ایک اور تشویش ناک اضافہ گاڑیوں میں انتہائی تیز روشنی والی ایل ای ڈی لائٹس اور ہائی بیم کے بے دریغ استعمال کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، جو شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
آج کل قومی شاہراہوں پر ایسی گاڑیاں عام دکھائی دیتی ہیں جن کی تیز اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ہیڈ لائٹس سامنے سے آنے والے ڈرائیوروں کی بصارت کو چند لمحوں کے لیے شدید متاثر کر دیتی ہیں۔ بعض گاڑیوں میں غیر معیاری، غیر موزوں اور ضرورت سے زیادہ طاقتور ایل ای ڈی بلب نصب کیے جاتے ہیں، جبکہ کئی ڈرائیور ہائی بیم کا استعمال اس انداز میں کرتے ہیں جیسے سڑک پر سفر کرنے والے دیگر افراد کی جان و مال کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہی نہ ہو۔
سوال یہ ہے کہ کیا اپنی گاڑی کو زیادہ روشن بنانا دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا جواز فراہم کرتا ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ سڑک پر گاڑی چلانا محض ذاتی سہولت یا آزادی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر ڈرائیور اپنی حفاظت کے ساتھ دوسروں کی سلامتی کا بھی خیال رکھے۔
قومی شاہراہوں پر گاڑیاں عموماً تیز رفتاری سے رواں دواں ہوتی ہیں۔ ایسے میں سامنے سے آنے والی گاڑی کی غیر معمولی تیز روشنی ڈرائیور کی آنکھوں کو چند لمحوں کے لیے خیرہ کر سکتی ہے، جس کے باعث سڑک کی حدود، لین، موڑ، سامنے موجود رکاوٹوں اور دوسری گاڑیوں کو بروقت دیکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ آنکھوں کو دوبارہ معمول کے مطابق دیکھنے کے قابل ہونے میں لگنے والا مختصر وقت بھی کسی بڑے ٹریفک حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی ویز پر غیر ضروری ہائی بیم اور غیر معیاری لائٹس کا استعمال محض ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہر ایل ای ڈی لائٹ خطرناک نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ غیر موزوں بلبوں، ہیڈ لائٹس کی غلط تنصیب، روشنی کے نامناسب زاویے اور بلا ضرورت ہائی بیم کے استعمال کا ہے۔ معیاری ہیڈ لائٹس اگر درست طریقے سے نصب ہوں اور ان کی روشنی مناسب حد تک محدود ہو تو رات کے سفر کو محفوظ بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس ضرورت سے زیادہ تیز اور غلط سمت میں پڑنے والی روشنی دوسروں کے لیے حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے ٹریفک پولیس، موٹروے پولیس اور گاڑیوں کے حفاظتی معیارات سے متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کے معیار، روشنی کی شدت، تنصیب کے زاویے اور ہائی بیم کے غیر ضروری استعمال کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور عوام میں ٹریفک قوانین کی پابندی سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔
حکومت، ٹریفک پولیس اور موٹروے پولیس کو باہمی اشتراک سے ایسا مؤثر لائحۂ عمل تشکیل دینا چاہیے جس کے تحت قومی شاہراہوں پر غیر معیاری اور دوسروں کے لیے خطرناک ثابت ہونے والی لائٹس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا کہ سڑک پر ان کا ہر عمل دوسرے انسان کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ شاہراہوں پر سفر کرنے والا ہر شخص، خواہ وہ بڑی گاڑی کا ڈرائیور ہو، موٹر سائیکل سوار ہو یا کسی چھوٹی گاڑی میں اپنے خاندان کے ہمراہ سفر کر رہا ہو، قیمتی انسانی جان کا حامل ہے۔ کسی ایک ڈرائیور کی لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کسی دوسرے خاندان کی خوشیاں اجاڑ سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ روشنی کو تحفظ کا ذریعہ بنایا جائے، خطرے کا نہیں۔ معیاری لائٹس کا استعمال، ہائی بیم سے اجتناب، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی شعور کی بیداری ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ہائی ویز پر چکاچوند پیدا کرنے والی یہ روشنیاں کسی بھی لمحے کسی گھر کے چراغ گل کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: ہائی ویز پر تیز ایل ای ڈی لائٹس روشنی کا سامان ہیں یا موت کا پیغام؟


