کراچی: برصغیر پاک و ہند میں ہوابازی (Aviation) کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور سنہری باب کو 94 برس مکمل ہوگئے ہیں۔ 15 اکتوبر 1932 کا دن خطے میں ہوائی سفر کے آغاز اور رابطوں کے ایک نئے دور کی بنیاد بن گیا تھا۔آج سے پورے 94 سال قبل، "امپیریل ائیر ویز” کے تعاون سے "ٹاٹا سنز” (جو آگے چل کر مشہور عالمی ایئر لائن ایئر انڈیا بنی) نے کراچی اور ممبئی (بمبئی) کے درمیان باقاعدہ پہلی ہوائی سروس کا آغاز کیا۔ اس تاریخی اور یادگار پرواز کی سب سے بڑی انفرادیت یہ تھی کہ اس کے پائلٹ خود نامور صنعت کار اور خطے میں ہوابازی کے بانی جی آر ڈی ٹاٹا (J.R.D. Tata) تھے، جنہوں نے سنگل انجن والے "ڈیهویلینڈ پُس موٹھ” (De Havilland Puss Moth) طیارے کے ذریعے کراچی سے ممبئی تک پرواز اڑائی تھی۔اس ابتدائی پرواز کا مقصد نہ صرف مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنا تھا بلکہ اس کے ذریعے خطے میں باقاعدہ فضائی ڈاک (Mail) کی نقل و حمل کا بھی آغاز کیا گیا تھا۔ تاریخ کا یہ سنگِ میل اس خطے میں جدید ہوابازی اور فضائی صنعت کی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جس نے بعد ازاں دنیا بھر میں ہوائی سفر کے نقشے پر برصغیر کو ایک نمایاں مقام دلایا۔
برصغیر میں ہوابازی کی تاریخ کا سنہری دن: کراچی اور ممبئی کے درمیان پہلی پرواز کو 94 سال بیت گئے

