تحریر : مہتاب نصیر اعوان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ حالات خراب ہیں، انصاف نہیں ملتا، طاقتور قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں اور کمزور کی کوئی نہیں سنتا۔ لیکن کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا کہ ان حالات کو بدلنے کے لیے ہم نے اپنا کردار کتنا ادا کیا ہے؟؟؟ کیا ہم نے کبھی کسی مظلوم کا ساتھ دیا ہے؟؟ کیا ہم نے کبھی غلط کو غلط کہنے کی ہمت کی ہے؟؟؟ یا ہم نے اپنی خاموشی کو ہی اپنی سمجھ داری کا نام دے رکھا ہے؟؟؟
کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ وہاں ناانصافی ہوتی ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ لوگ ناانصافی کو دیکھنے کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔ جب کسی کمزور کی آواز دبائی جائے، کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی ہو اور حق دار کو اس کا حق نہ ملے، مگر اردگرد کھڑے لوگ محض تماشائی بنے رہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف ایک فرد یا ادارے کا نہیں، پورے معاشرے کے رویّے کا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویّہ پروان چڑھ رہا ہے۔ جب تک مسئلہ ہمارے اپنے گھر، خاندان یا مفاد تک محدود نہ ہو، ہم اسے دوسروں کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کسی غریب کے ساتھ زیادتی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔ کسی کمزور کی حق تلفی ہو تو ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں کیا پڑی ہے۔ کسی کے ساتھ ناانصافی کرنے والا بااثر شخص ہو تو ہم سچ بولنے کے بجائے اپنے تعلقات اور مفادات کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یہی وہ خاموشی ہے جو ناانصافی کو طاقت دیتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر مسئلے کا حل سڑک پر احتجاج یا سوشل میڈیا پر شور مچانا نہیں۔ بعض معاملات میں قانونی کارروائی، مستند شکایت، ثبوت جمع کرنا اور متعلقہ حکام سے جواب طلب کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اصل مقصد کسی کو بدنام کرنا نہیں، بلکہ مسئلے کا حل اور انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں اختلاف نہ ہو یا مسائل پیدا نہ ہوں، مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں کمزور کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہو، طاقتور کو جواب دہ ہونا پڑے اور قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہو۔ جب شہری اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرتے ہیں تو معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
آج ہمیں دوسروں سے سوال کرنے کے ساتھ اپنے ضمیر سے بھی سوال کرنا ہوگا۔ اگر ہم ناانصافی کے خلاف صرف اس وقت بولتے ہیں جب نقصان ہمارا اپنا ہو تو یہ اصول پسندی نہیں، مفاد پرستی ہے۔ حق کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب سچ ہمارے اپنے مفاد، تعلقات یا پسند کے خلاف کھڑا ہو۔
یاد رکھیے، ناانصافی کرنے والے چند لوگ ہو سکتے ہیں، لیکن اسے روکنے کی ذمہ داری پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
اگر ہم ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی خاموشی کی وجوہات پر غور کرنا ہوگا۔ ہمیں سچ بولنے والوں کی حوصلہ افزائی, مظلوموں کی قانونی مدد اور اداروں کی جواب دہی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب معاشرہ حق کے لیے آواز اٹھانا چھوڑ دیتا ہے تو ناانصافی کو روکنے والی دیواریں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
سوال آج بھی وہی ہے، اگر ہم سب خاموش رہیں گے تو ناانصافی کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟؟؟


