واشنگٹن: معاشی و تجارتی تحقیقی ادارے میکنسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ (McKinsey Global Institute) نے اپنی تازہ ترین اور انتہائی اہم رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے نفوذ کے باعث آئندہ ایک دہائی میں امریکی ورک فورس کے تقریباً 7 فیصد حصے یعنی ایک کروڑ 10 لاکھ (11 ملین) ملازمین کو اپنے روایتی پیشے مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اے آئی کا یہ طوفان مجموعی طور پر نئی ملازمتیں بھی پیدا کرے گا، تاہم ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار پھیلاؤ کے نتیجے میں تقریباً 3 کروڑ 6 لاکھ (36 ملین) ملازمتوں کے مطالبات اور نوعیت میں بنیادی تبدیلیاں یا کمی واقع ہو جائے گی، جس کے باعث کروڑوں افراد کو نئی مہارتیں سیکھنا ہوں گی۔
مکینسی رپورٹ کے مطابق سنہ 2035 تک تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ امریکی ورکرز کو اپنی موجودہ فیلڈ چھوڑ کر بالکل نئی صنعتوں یا شعبوں کا رخ کرنا پڑے گا۔
کم اجرت والے طبقات پر زیادہ اثر:
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی تبدیلی سے سب سے زیادہ اثر دفتر اور انتظامی امور (Office and administrative support)، پرچون اور سیلز (Retail & Sales)، اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں پر پڑے گا۔ کم اجرت والے ملازمین کو اپنے پیشے بدلنے کے امکانات ہائی-پتے ورکرز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ درپیش ہوں گے۔
نئی ملازمتوں کے مواقع:
دوسری جانب رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ صحت عامہ (Healthcare)، کنسٹرکشن (Construction) اور مینجمنٹ کے شعبوں میں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، تاہم ان کے لیے جدید مهارتوں (Credentials and Skills) کی اشد ضرورت ہوگی
تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی کے دور میں "AI Fluency” اور تکنیکی ڈھانچے کو سمجھنے کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، اور حکومتوں اور اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کروڑوں افراد کی مناسب ری اسکلنگ (Reskilling) اور تربیت کا بندوبست کرنا ہوگا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ میکنسی کی یہ رپورٹ دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ روایتی تعلیمی نظام اور لیبر مارکیٹ کو ارٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور کے مطابق ڈھالیں ورنہ بیروزگاری اور خانہ جنگی کے لئے تیاررہیں
اے آئی اور آٹومیشن کے نفاذ سے تقریباً 3 کروڑ 6 لاکھ نوکریوں کی مانگ یا نوعیت میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف نئے شعبوں (جیسے ہیلتھ کیئر، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی) میں 4 کروڑ 1 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا بھی ہوں گی۔ مجموعی طور پر ملازمتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، لیکن سب سے بڑا چیلنج پرانے پیشے چھوڑنے والوں کو نئے پیشوں تک منتقل کرنا ہے۔
ماضی میں عام حالات کے دوران امریکہ میں سالانہ تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار افراد اپنے پیشہ ورانہ گروپس تبدیل کرتے تھے۔ لیکن اس اے آئی تبدیلی کے لیے سالانہ تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار ورکرز کو کیریئر تبدیل کرنا ہوگا، جو تاریخی شرح سے تقریباً 3.6 گنا زیادہ ہے۔
کارکنوں کے لیے منتقلی کے راستے (Pathways for Workers)
میکنسی نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ آیا متاثرہ ملازمین کتنی آسانی سے ترقی پذیر شعبوں میں جا سکتے ہیں:
براہ راست راستہ (Direct Pathway – صرف 14 فیصد): صرف 14 فیصد ورکرز ایسے ہیں جن کے پاس ہنر کی مطابقت، بلا کٹوتی تنخواہ اور 6 ماہ سے کم وقت کی ٹریننگ کا آسان راستہ موجود ہے۔
گھماؤ دار راستہ (Winding Pathway – 41 فیصد): ان افراد کو دو سال تک کی meaningful ری اسکلنگ اور تربیت کی ضرورت ہوگی۔
دشوار گزار راستہ (Unpaved Pathway – 45 فیصد): لگ بھگ نصف ورکرز ایسے ہیں جن کے ہنر میں بہت بڑا خلا ہے، جن کے لیے طویل المدتی ٹریننگ اور سند کا حصول درکار ہوگا۔
میکنسی انسٹی ٹیوٹ کی اہم سفارشات (Key Recommendations)
میکنسی نے حکومتوں، کارپوریٹ اداروں اور تعلیمی نظام کے لیے درج ذیل حکمت عملی کی سفارش کی ہے:
بڑے پیمانے پر ‘ری اسکلنگ’ (Mass Reskilling): چونکہ کروڑوں افراد کو روایتی پیشے چھوڑ کر نئے ہنر سیکھنا ہوں گے، اس لیے کارپوریشنز اور حکومتوں کو ملازمین کی تربیت کے لیے بجٹ اور تربیتی پروگراموں میں کئی گنا اضافہ کرنا ہوگا۔
صلاحیتوں کی بنیاد پر بھرتی (Skills-Based Hiring): آجرین کو روایتی یونیورسٹی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ ہنر (Skills) اور تجربے کی بنیاد پر ہائرنگ کے نظام کو اپنانا ہوگا تاکہ کیریئر بدلنے والے افراد کے لیے رکاوٹیں کم ہوں۔
تعلیمی نظام میں تبدیلی: تعلیمی اداروں کو موجودہ جاب مارکیٹ کی ضروریات (خصوصاً AI Fluency اور تکنیکی مہارتوں) کے مطابق نصاب کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
اداروں اور ورکرز میں تعاون: کمپنیاں صرف ٹیکنالوجی پر سرمایاکاری نہ کریں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو چلانے والے انسانی سرمائے (Human Capital) اور ان کی فلاح و بہبود پر بھی خاطر خواہ وسائل صرف کریں۔ر کے فقدان کا ایک بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔

