ہانگ کانگ : ہانگ کانگ میں کثیرالمنزلہ رہائشی کمپلیکس میں آگ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد55 تک جا پہنچی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مزید ہلاکتیں بھی سامنے آسکتی ہیں۔جبکہ آگ سے متاثرہ رہائشی بلاکس کے 300 افراد لاپتا ہیں۔ آگ لگانے کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کے ہانگ کانگ کے شمالی علاقے میں واقع ایک کثیر المنزلہ رہائشی کمپلیکس میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ فائر ڈیپارٹمنٹ نے آگ کو چوتھے درجے کی آتشزدگی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شعلوں پر قابو پانے کی کوششیں کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق متعدد افراد اب بھی عمارتوں کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ حکام نے تقریباً 700 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا ہے جہاں انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آگ کا شکار ہونے والا یہ کمپلیکس 8 بلاکس پر مشتمل ہے، ہر بلاک 31 منزلہ ہے۔ مجموعی طور پر یہاں 2 ہزار کے قریب اپارٹمنٹس اور تقریباً 5 ہزار رہائشی موجود ہیں، جس کے باعث ریسکیو سرگرمیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ میں پیش آنے والی یہ آگ گزشتہ 50 سال کی سب سے ہلاکت خیز آتشزدگی قرار دی جا رہی ہے۔
ہانگ کانگ کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
تائیوان کی صدر لائی چِنگ تے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ لاپتا افراد جلد محفوظ حالت میں مل جائیں گے۔
حکام نے آگ لگانے کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

