تحریرنویدبلوچ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

گزشتہ روز پنجاب کے کئی شہروں میں طوفانی آندھی نے جو تباہی مچائی، وہ قدرتی آفت نہیں، ہماری عقل پر پڑی دھول کا ثبوت ہے۔ ہر طرف چھتوں سے اُڑتے ہوئے سولر پینل، ٹوٹی ہوئی ٹین کی چادریں، زمین پر گرے ہوئے بجلی کے کھمبے، اور نالوں میں بہتی زندگی کی جمع پونجی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس منظر کو پہلی بار دیکھا؟ نہیں، یہ سب کچھ ہم ہر طوفان کے بعد دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، بھگتتے ہیں… اور اگلے ہی دن سب کچھ بھول کر پھر وہی غلطی دہراتے ہیں۔آپ کبھی غور کریں، ہم جدید چیزیں فوراً اپنا لیتے ہیں، لیکن ان کے تقاضے نہیں سمجھتے۔ سولر پینل ترقی یافتہ دنیا میں دہائیوں سے لگ رہے ہیں۔ وہاں آندھیاں بھی آتی ہیں، برفباری بھی ہوتی ہے، بارشیں بھی برستی ہیں۔ لیکن وہاں سولر پینل چھتوں سے نہیں اُڑتے، کیونکہ انہوں نے صرف سولر نہیں لگوایا، عقل بھی استعمال کی۔ ہمارے ہاں صورتِ حال مختلف ہے۔ ہم نے بجلی کے بل سے بچنے کے لیے جلدی میں سولر لگوا لیا، مگر یہ سوچا ہی نہیں کہ اس کے لیے کاریگر ماہر ہونا چاہیے، انسٹالیشن معیاری ہونی چاہیے، اور سامان مصدقہ ہونا چاہیے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم نے ہر چیز کو سستا کرنے کی ایسی عادت ڈال لی ہے کہ مہنگے نقصان اب معمول بن چکے ہیں۔ آپ کسی بھی گلی میں نکل جائیں، آپ کو درجنوں کاریگر مل جائیں گے جو چھ ہزار میں سولر لگا دیتے ہیں۔ اصل کاریگر بیس ہزار مانگے تو ہم ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ ہمیں پینتیس ہزار کا اصل انورٹر مہنگا لگتا ہے، لیکن دو نمبر انورٹر پچیس ہزار میں خرید کر خوش ہو جاتے ہیں۔ پھر آندھی آتی ہے، چھت اُڑتی ہے، سولر اُڑتا ہے، اور ہمیں لگتا ہے قدرت نے زیادتی کی ہے۔یہ بات یاد رکھیے، قدرت زیادتی نہیں کرتی، بس وہ آپ کی نااہلی پر خاموش نہیں رہتی۔ جو قومیں قدرت کے قوانین کو نہیں سمجھتیں، وہ تباہی کے قوانین سے بچ نہیں سکتیں۔ ہم ہر سال طوفان، بارش اور گرمی سے نقصان اٹھاتے ہیں، لیکن ہر سال اُسی دکان سے وہی ناقص پنکھا، اُسی نل سے وہی دو نمبر موبل آئل، اور اُسی کاریگر سے وہی جھولتا ہوا سولر سسٹم لگواتے ہیں۔ہم کب سیکھیں گے؟ جب ہر طوفان کے بعد ایک بار پھر پورے محلے کے سولر پینل نیچے آ گریں گے؟ یا جب کسی دن کوئی چھت پر کام کرتا کاریگر اُس پینل کے ساتھ نیچے آ گرے گا؟ یا جب بیمہ کمپنیاں ہماری ناقص تنصیب کی وجہ سے دعوے دینے سے انکار کر دیں گی؟ہمارا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم پسماندہ ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیکھنا نہیں چاہتے۔ ہمارے لوگ تب تک کسی چیز کو سیریس نہیں لیتے جب تک وہ ان کے سر پر نہ گرے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اوپر روزانہ کچھ نہ کچھ گرتا ہے، لیکن پھر بھی ہم نہیں سیکھتے۔ہمیں اب صرف سولر پینل محفوظ بنانے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے دماغوں میں بھی پیچ کس مارنے کی ضرورت ہے، تاکہ کچھ فکس ہو، کچھ درست ہو، اور ہم زمانے سے دو قدم پیچھے چلنے کے بجائے اُس کے ساتھ ساتھ چلنا سیکھیں۔ورنہ ہر آندھی کے بعد ہم یوں ہی اپنے ہی ملبے میں کھڑے ہو کر خود سے یہی سوال کرتے رہیں گے: ہم کب سیکھیں گے؟

