کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملک بھر میں اے ٹی ایم فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے تمام کمرشل بینکوں کو صارفین کے تحفظ اور سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے سخت نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مراسلے میں بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اے ٹی ایم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ مرکزی بینک کے مطابق، تمام بینکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے اے ٹی ایم بوتھس پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو 24 گھنٹے فعال رکھیں اور کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی کی صورت میں اپنے صارفین کو فوری طور پر الرٹ جاری کریں۔
اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے ٹی ایم سسٹمز اور بینکنگ سافٹ ویئر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں اور بینکاری نیٹ ورکس کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کو مزید محفوظ اور خفیہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، فراڈ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ‘چپ اور پن’ (Chip and PIN) والے کارڈز کی فراہمی یقینی بنائیں۔
صارفین کے لیے اہم ہدایات
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی صارف اے ٹی ایم فراڈ کا شکار ہوتا ہے تو وہ فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک کی ہیلپ لائن پر اطلاع دے۔ اگر بینک کی جانب سے شکایت کا بروقت یا تسلی بخش حل نہیں نکالا جاتا، تو صارف اسٹیٹ بینک کے آفیشل آن لائن شکایت پورٹل پر رجوع کر سکتے ہیں۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ صارفین کا اعتماد بحال رکھنا اور مالیاتی نظام کو محفوظ بنانا اولین ترجیح ہے، اور ان ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والے بینکوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

